پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جمعرات، 15 اکتوبر کو ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 21 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں 20 طالب علم اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں میں 18 لڑکے اور دو لڑکیاں شامل ہیں، جن کی عمریں سات سے 12 سال کے درمیان تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے میں 21 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے پانچ کی حالت تشویش ناک ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
یہ واقعہ پشاور کے علاقے آفریدی آباد میں واقع نجی اسکول میں اس وقت پیش آیا جب بچے کلاس رومز میں موجود تھے۔
ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر نے بتایا کہ اسکول کی چھت اچانک گرنے سے متعدد بچے ملبے تلے دب گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ملبہ ہٹانے کے ساتھ زخمی بچوں اور اساتذہ کو ہسپتال منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا۔
امدادی کارروائیوں میں پولیس اور مقامی افراد نے بھی حصہ لیا۔
ابتدائی اطلاعات میں 10 سے زائد بچوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی، تاہم امدادی کارروائیاں آگے بڑھنے اور مزید متاثرین کو ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد اموات کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمی بچوں اور اساتذہ کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے اور امدادی کارروائیوں میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
ابتدائی رپورٹس میں اسکول کی چھت گرنے کی حتمی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔
اس واقعے نے ملک میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے تحفظ اور تعمیراتی معیار سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
اس سے قبل جون میں لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ پنجاب اور سندھ میں بھی تعلیمی عمارتوں کے گرنے کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
پشاور میں پیش آنے والے واقعے کے بعد امدادی کارروائیوں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔





