اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے لیے نئے آئینی، انتظامی اور مالیاتی فریم ورک کی تیاری کے سلسلے میں اہم فریقین سے وسیع پیمانے پر مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے بتایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس 25 اور 26 ستمبر 2026ء کو اسلام آباد میں ہوگا، جس کی صدارت وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کریں گے۔
کمیٹی میں گلگت بلتستان کے قائدِ حزبِ اختلاف حافظ حفیظ الرحمٰن، وفاقی وزیرِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور وزارتِ خارجہ، قانون اور بین الصوبائی رابطہ کے سینئر حکام شامل ہیں۔ کمیٹی کا مقصد مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے تاریخی موقف کو متاثر کیے بغیر آئینی ترمیم کے لیے سفارشات کو حتمی شکل دینا ہے۔
اس کے ساتھ ہی، گلگت بلتستان حکومت پہلی سہ ماہی کے لیے 20.478 ارب روپے کے عبوری فنڈز کی منظوری کے بعد مالی سال 27-2026ء کا تاخیر کا شکار سالانہ بجٹ پیش کر رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ امجد حسین نے تصدیق کی کہ شدید مالی مشکلات کے باعث خطہ خسارے کا بجٹ پیش کرے گا، تاہم سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر تمام انتخابی حلقوں کو مساوی ترقیاتی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔
گلگت بلتستان کے مالی بحران کے حل کے لیے علاقائی انتظامیہ نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں حصے کی باقاعدہ درخواست کی ہے، اور مستقل آئینی حیثیت طے پانے تک آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کی طرز پر مرکز کے ساتھ عبوری مالیاتی معاہدے کی تجویز پیش کی ہے۔





