اسلام آباد: کسی ویب سائٹ کا بظاہر درست نظر آنا اس کے بنیادی سافٹ ویئر کے محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں۔ پی ایچ پی میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کے بعد دنیا بھر میں ویب سائٹس محفوظ بنانے کی دوڑ کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔
سرکاری اداروں، اسپتالوں اور دیگر تنظیموں نے اپنے نظام محفوظ کرنے کے دوران متعدد ویب سائٹس عارضی طور پر بند کی ہیں۔
لیکن پی ایچ پی ہے کیا، اور اس کی اہمیت کیوں ہے؟
پی ایچ پی ایک پروگرامنگ زبان ہے جس کا نام “PHP: Hypertext Preprocessor” ہے۔ یہ ویب سائٹ کے سرور پر ہدایات پر عمل کرتی ہے اور تیار شدہ صفحہ صارف کے براؤزر کو بھیجتی ہے۔
جب کوئی شخص خبر کھولتا، آن لائن دکان میں چیز تلاش کرتا یا فارم جمع کراتا ہے تو پی ایچ پی ڈیٹابیس سے معلومات حاصل کرکے جواب تیار کرنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔ صارف عموماً تیار صفحہ دیکھتا ہے، اس کے پیچھے موجود پی ایچ پی کوڈ نہیں۔
ورڈپریس، ڈروپل اور جوملا جیسے مواد شائع کرنے والے نظام اسے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے سافٹ ویئر پر کام کرنے والے نیوز روم میں پی ایچ پی اشاعتی نظام اور قارئین تک پہنچنے والے صفحات کے درمیان رابطے کا حصہ ہوتی ہے۔
اسی مشترکہ انحصار کے باعث موجودہ خطرے کا دائرہ وسیع ہے۔ الگ الگ اداروں کی ویب سائٹس ایک ہی بنیادی خامی سے متاثر ہوسکتی ہیں۔
یورپی سائبر سکیورٹی حکام کے مطابق دو خامیوں کے ذریعے حملہ آور شناخت کی تصدیق یا لاگ اِن کے بغیر غیر محفوظ سرور پر نقصان دہ کوڈ چلا سکتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں سرور سے ایسی ہدایات پر عمل کرایا جاسکتا ہے جن کی اجازت نہیں دی گئی۔ حفاظتی اپ ڈیٹس 21 اکتوبر کو جاری کی گئیں۔
سائبر سکیورٹی کمپنی وِز کے مطابق مصنوعی ذہانت نے محققین کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے موجود کمزوریاں تلاش کرنے اور ان کا عملی خطرہ دکھانے میں مدد دی۔ خدشہ یہ ہے کہ یہی صلاحیت حملہ آوروں کو بھی اپ ڈیٹ نہ کیے گئے نظام تیزی سے نشانہ بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
پی ایچ پی استعمال کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ویب سائٹ ہیک ہوچکی ہے۔ خطرے کا انحصار اس کے ورژن، ترتیبات اور رسائی پر ہوتا ہے۔ اسی طرح عارضی بندش کامیاب حملے کے بجائے احتیاطی اقدام بھی ہوسکتی ہے۔
ویب سائٹ پر خبر بدلنے، پاس ورڈ تبدیل کرنے یا نیا ڈیزائن لگانے سے بنیادی پی ایچ پی سافٹ ویئر کی خامی دور نہیں ہوتی۔ منتظمین کو ہوسٹنگ فراہم کنندہ سے تصدیق کرنی چاہیے کہ معاونت یافتہ اور حفاظتی اپ ڈیٹ والا ورژن استعمال ہورہا ہے۔
این ایچ ایس انگلینڈ کے مطابق پی ایچ پی 8.1 اور پرانے ورژنز کی معاونت ختم ہوچکی ہے، اس لیے انہیں نئے ورژن پر منتقل کرنا ضروری ہے۔ فوری اپ ڈیٹ ممکن نہ ہو تو غیر محفوظ نظام عارضی طور پر انٹرنیٹ سے الگ کرنا پڑسکتا ہے۔
پاکستانی کاروباروں اور نیوز رومز کے لیے بنیادی سوال یہ ہے: سرور کون سنبھالتا ہے، پی ایچ پی کا کون سا ورژن چل رہا ہے، اور کیا حفاظتی اپ ڈیٹ لگادی گئی ہے؟





