سانتا فے: امریکی ریاست نیو میکسیکو کے ایک جج نے صارفین کو گمراہ کرنے کے مقدمے میں فیس بک کی مالک کمپنی میٹا کو 25 ارب ڈالر کا دیوانی جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
بدھ کو سامنے آنے والا حکم ستمبر میں جیوری کے فیصلے کے بعد جاری کیا گیا۔ مقدمے کا تعلق کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل سے ہے، جس میں سیاسی مشاورت فراہم کرنے والی ایک کمپنی نے لاکھوں فیس بک صارفین کی معلومات ان کی رضامندی کے بغیر حاصل کی تھیں۔
نیو میکسیکو کے محکمہ انصاف کے مطابق جیوری نے ریاست کے صارفین کے تحفظ کے قانون کی تقریباً چار کروڑ 40 لاکھ خلاف ورزیاں پائیں۔ مقدمے میں رازداری، تیسرے فریق کی ذاتی معلومات تک رسائی اور گمراہ کن و نفرت انگیز مواد سے نمٹنے سے متعلق فیس بک کے بیانات کا جائزہ لیا گیا۔
میٹا نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے چیف لیگل افسر سی جے مہونی نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اپیل میں کامیابی کی توقع ظاہر کی۔ یوں ادائیگی کے اس حکم کو مزید قانونی کارروائی کا سامنا ہوگا۔
کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل نے واضح کیا تھا کہ بظاہر ایک عام ایپ کے ذریعے جمع ہونے والی معلومات کا دائرہ اسے استعمال کرنے والے افراد سے کہیں آگے بڑھ سکتا ہے۔
شخصیت جانچنے والے ایک کوئز، جس کا نام “thisisyourdigitallife” تھا، کو تقریباً دو لاکھ 70 ہزار افراد نے استعمال کیا۔ تاہم ایپ نے ان کے فیس بک دوستوں کی معلومات بھی جمع کیں، جس سے دنیا بھر میں تقریباً آٹھ کروڑ 70 لاکھ صارفین کی معلومات تک رسائی حاصل ہوگئی۔
کیمبرج اینالیٹیکا نے ذاتی معلومات کو سیاسی رجحانات کے تجزیے اور مخصوص ووٹرز کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا۔ یہ معاملہ 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دور سے منسلک تھا۔
فیس بک کو دسمبر 2015 میں معلوم ہوگیا تھا کہ کمپنی نے یہ معلومات حاصل کرلی ہیں، تاہم 2018 میں ایک مخبر کے انکشافات کے بعد معاملہ بڑے عوامی اسکینڈل کی صورت اختیار کرگیا۔
اس عمل نے صارف کی باخبر رضامندی پر بنیادی سوال اٹھایا، کیونکہ جن لوگوں کی معلومات حاصل کی گئیں ان میں بہت سے ایسے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے متعلقہ ایپ کبھی استعمال ہی نہیں کی تھی۔
تازہ مقدمہ صرف معلومات جمع کرنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں ان یقین دہانیوں کا بھی جائزہ لیا گیا جو فیس بک صارفین کو دیتی رہی۔ نیو میکسیکو نے وسیع تر تصفیے میں شامل ہونے کے بجائے اپنا مقدمہ الگ چلایا۔ جیوری نے کمپنی کی قانونی ذمہ داری کا تعین کیا، جبکہ بدھ کے عدالتی حکم میں مالی جرمانہ مقرر کیا گیا۔
اس سے پہلے 2019 میں فیس بک نے امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے ساتھ تصفیے کے تحت پانچ ارب ڈالر جرمانے اور رازداری سے متعلق نئی شرائط قبول کی تھیں۔ کمیشن کا الزام تھا کہ کمپنی نے صارفین کو اپنی ذاتی معلومات پر اختیار کے بارے میں گمراہ کرکے سابقہ حکم کی خلاف ورزی کی۔
بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک الگ مقدمے میں بھی میٹا کے خلاف فیصلے آچکے ہیں۔ مارچ میں نیو میکسیکو کی جیوری نے کمپنی پر 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا۔
اگست کے حکم میں مزید 56 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی ادائیگی اور پلیٹ فارمز میں تبدیلیاں لازم قرار دی گئیں۔ اس الگ مقدمے میں مجموعی مالی جرمانے 94 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہوگئے۔
بچوں کے تحفظ کی کارروائی اور کیمبرج اینالیٹیکا مقدمہ الگ معاملات ہیں، تاہم دونوں میں کمپنی کی یقین دہانیوں کو صارفین کے تحفظ کے قوانین کے تحت جانچا گیا ہے۔
تازہ 25 ارب ڈالر جرمانہ ریاست نیو میکسیکو کو ادا کرنے کا حکم ہے۔ یہ معلومات جمع کیے جانے سے متاثرہ ہر فیس بک صارف کے لیے معاوضے کی کسی اعلان کردہ اسکیم کا حصہ نہیں۔





