نیروبی: خلا میں انسانی سرگرمیوں کا بڑھتا دائرہ مدار سے زمین تک ماحولیاتی خطرات پیدا کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور خلائی امور کے دفتر کے مشترکہ جائزے کے مطابق ان خطرات میں خلائی ملبے کا جمع ہونا اور فضائی آلودگی شامل ہیں۔
مشترکہ جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے یو این ای پی نے 10 اپریل کو شائع ہونے والے مضمون میں بتایا کہ زمین کے گرد تقریباً 13 کروڑ ملبے کے ٹکڑے گردش کر رہے ہیں۔ ان میں سیٹلائٹس کے ٹکڑے اور متروک خلائی جہاز شامل ہیں۔ بعض ٹکڑوں کی رفتار 15 کلومیٹر فی سیکنڈ تک ہوتی ہے۔
ان اشیا کے باہمی تصادم سے مزید ملبہ پیدا ہو سکتا ہے، جس سے فعال سیٹلائٹس کو خطرہ بڑھتا ہے۔ فضا میں دوبارہ داخل ہونے کے دوران مکمل طور پر نہ جلنے والی اشیا زمین پر آبادیوں اور ماحولیاتی نظام کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
ماحولیاتی اثرات راکٹ کی پرواز سے شروع ہو جاتے ہیں۔ ایندھن اور انجن کی نوعیت کے مطابق راکٹ کاجل، ایلومینیم کے ذرات، کیمیائی مرکبات اور گیسیں خارج کرتے ہیں، جو فضا کی کیمیائی ساخت اور اوزون کی تہہ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
خلائی جہازوں کی واپسی کے دوران بالائی فضا میں دھاتیں اور آکسائیڈز بھی شامل ہوتے ہیں۔ جائزے کے مطابق یہ آلودگی اوزون کی کمی میں کردار ادا کر سکتی ہے اور سورج کی روشنی کے خلا کی طرف منعکس ہونے کے عمل پر ممکنہ اثر ڈال سکتی ہے۔ ان اثرات کی مکمل نوعیت جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔
بڑی تعداد میں سیٹلائٹس سے منعکس ہونے والی روشنی اور ریڈیو سگنلز فلکیاتی مشاہدات میں بھی مداخلت کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے پروازوں اور واپسی کے دوران اخراج کی بہتر نگرانی اور معلومات کے تبادلے پر زور دیا۔ انہوں نے ایسے خلائی جہاز بنانے کی سفارش کی جو تصادم سے بچ سکیں، محفوظ انداز میں مدار چھوڑیں اور اپنی پوری عملی مدت میں کم ماحولیاتی نقصان پیدا کریں۔
ذمہ داری حکومتوں، خلائی اداروں، کمپنیوں اور بین الاقوامی اداروں میں مشترک ہے۔ بیرونی خلا کا معاہدہ نقصان دہ آلودگی سے بچاؤ سمیت بنیادی اصول فراہم کرتا ہے، جبکہ قومی حکومتیں پروازوں اور سیٹلائٹس کے لیے ضوابط بناتی ہیں۔
تاہم جائزے کے مطابق خلائی سرگرمیوں کے لیے اب بھی کوئی جامع عالمی ماحولیاتی نظام موجود نہیں۔ زمین اور خلا کے تحفظ کے لیے مضبوط بین الاقوامی تعاون ضروری قرار دیا گیا ہے۔





