راولپنڈی: پاکستان اور روس نے سیکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ کاری مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف نے بدھ کو جنرل ہیڈکوارٹرز میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعاون پر بات ہوئی۔ دونوں فریقوں نے سیکیورٹی اداروں کے درمیان قریبی روابط اور بہتر تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو خصوصاً سلامتی کے شعبے میں عملی تعاون میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
روسی وزیر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کا اعتراف کیا اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف سے الگ ملاقات میں کولوکولتسیف نے تجارت اور معاشی تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات کی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق انہوں نے مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں روابط مضبوط بنانے کی روسی خواہش کا اظہار کیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ مذاکرات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون، ملزمان کی حوالگی، سائبر کرائم اور نقل مکانی کے امور زیر بحث آئے۔
وزارت داخلہ کے مطابق دونوں ممالک نے ملزمان کی حوالگی کے معاہدے کو حتمی شکل دینے اور منظم جرائم کی روک تھام اور معلومات کے تبادلے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تیاری پر اتفاق کیا۔
دونوں فریقوں نے دوبارہ داخلے کے معاہدے پر جلد عمل درآمد اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے متعلقہ روسی اداروں سے تعاون بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا۔ وزارتوں کے ورکنگ گروپس جلد باہمی دورے کریں گے۔
پاکستانی ہنرمندوں کے لیے روس میں مواقع اور سیاحوں و کاروباری افراد کے لیے ویزا سہولتیں بھی زیر بحث آئیں۔
کولوکولتسیف نے کہا کہ روس میں مؤثر اقدامات سے سائبر جرائم میں 33 فیصد کمی آئی ہے۔ نقوی نے اس تجربے سے استفادے کی خواہش ظاہر کی۔





