لاہور: لاہور چڑیا گھر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران نر دریائی گھوڑے کا نام ’گبو‘ رکھ دیا گیا۔ تقریب میں اسکول کے بچوں، چڑیا گھر کے حکام اور اساتذہ نے شرکت کی۔
یہ دریائی گھوڑا رواں سال مارچ میں جنوبی افریقہ سے لاہور لایا گیا تھا۔ چڑیا گھر میں ’رانی‘ نامی مادہ دریائی گھوڑا بھی موجود ہے۔ چڑیا گھر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام رسول نے بتایا کہ ’گبو‘ نام بچوں کی تجاویز میں سے منتخب کیا گیا تاکہ جانوروں اور جنگلی حیات کے تحفظ میں ان کی دلچسپی بڑھائی جا سکے۔
تقریب کے دوران جانوروں کے لباس میں ملبوس طلبہ نے پرفارمنس پیش کی جبکہ بچوں کے لیے میجک شو کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر گبو کو پھل اور سبزیاں بھی کھلائی گئیں۔
سینئر ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر محمد مجاہد نے بتایا کہ اگر روزمرہ معمولات کے دوران جانوروں کو ایک ہی نام سے مسلسل پکارا جائے تو وہ اس نام کی مخصوص آواز سے مانوس ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک سے دو ماہ تک مسلسل نام پکارنے سے جانور توجہ، حرکت یا دوسرے رویوں کے ذریعے اس پر ردعمل دینا شروع کر سکتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ جانور نام کو انسانوں کی طرح سمجھتا ہے بلکہ وہ اس آواز کو اپنے نگہبان، روزمرہ معمولات یا خوراک ملنے جیسے تجربات سے جوڑ لیتا ہے۔
ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق جانوروں کے نام رکھنے سے چڑیا گھر کے عملے کو ان کی شناخت اور دیکھ بھال میں بھی مدد ملتی ہے، جبکہ اس سے آنے والے افراد کو جانوروں کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا موقع ملتا ہے۔
تقریب کا انعقاد ڈاکٹر غلام رسول کی ہدایت پر کیا گیا، جبکہ اس کی نگرانی ڈپٹی ڈائریکٹر شہزیب خورشید اور انتظامی امور کی ذمہ داری ایجوکیشن آفیسر کرن نے انجام دی۔





