اسلام آباد: پاکستان کے خلائی ادارے سپارکو کی جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق کراچی کے مائی کولاچی بائی پاس کے قریب مینگرووز کی کٹائی اور زمین بھرائی ساحل کے قدرتی دفاع کو کمزور کررہی ہے۔
سال 2000 اور 2025 کی تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ مسلسل مینگرووز اور قدرتی سمندری کھاڑیوں پر مشتمل علاقے بتدریج زمین بھرائی اور شہری پلاٹوں میں تبدیل ہوئے ہیں۔
سپارکو نے اسے قدرتی ماحولیاتی تحفظ سے ایسی تعمیرات کی جانب منتقلی قرار دیا ہے جو ساحلی زمین کی ساخت بدل دیتی ہیں۔
ادارے کے مطابق مینگرووز ساحلی درجہ حرارت متوازن رکھنے، گاد اور مٹی روکنے اور فضا سے کاربن جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی کٹائی آبی راستوں کے باہمی رابطے متاثر کرتی ہے، سطح زمین پر پانی کا بہاؤ بڑھاتی ہے اور مدوجزر کے قدرتی نظام میں تبدیلی لاتی ہے۔
سپارکو نے خبردار کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس سے مقامی سیلاب، ساحلی زمین کے عدم استحکام اور زمین بتدریج دھنسنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
مینگرووز ساحلی پودوں اور مٹی میں کاربن بھی ذخیرہ کرتے ہیں، جسے بلیو کاربن کہا جاتا ہے۔ ان کی جگہ تعمیرات ہونے سے قدرتی تحفظ ایسے وقت میں کم ہورہا ہے جب سطح سمندر بلند اور شدید موسمی واقعات بڑھ رہے ہیں۔
ادارے کے مطابق مینگرووز حالات کے مطابق ڈھل سکتے اور دوبارہ نشوونما پاسکتے ہیں۔ ان کی جگہ مستقل تعمیرات ہونے سے عمارتوں، بنیادی ڈھانچے اور آبادیوں کو موسمیاتی خطرات کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ماحولیاتی پالیسی کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا کہ مینگرووز اور قدرتی کھاڑیوں کی تباہی ساحلی آبادیوں، روزگار اور معاشی استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ جنگلات ساحلی کٹاؤ کم کرتے، طوفانی سمندری لہروں کی شدت گھٹاتے اور ماہی گیری اور حیاتیاتی تنوع کو سہارا دیتے ہیں۔
سلیم شیخ نے وفاقی اور سندھ حکومت سے تجاوزات روکنے، ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد مضبوط بنانے اور ساحلی منصوبوں کے جامع ماحولیاتی جائزے یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مقامی انواع سے بحالی، عوامی شرکت اور شفاف سیٹلائٹ نگرانی کی بھی سفارش کی۔
دوسری جانب سپارکو کی 2019 سے 2026 کی تصاویر میں سجاول کے شاہ بندر میں مینگرووز کے پھیلاؤ کی نشاندہی ہوئی ہے۔ 19 علاقوں کے جائزے میں 151.24 ہیکٹر پر نئی نباتات سامنے آئیں، جو مجموعی مطالعہ شدہ رقبے کا تقریباً 6.5 فیصد ہے۔
ڈان کے رابطے پر سینیٹر شیری رحمان نے تبصرے سے گریز کیا، جبکہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے پیغامات کا جواب نہیں دیا۔





