لندن: برطانیہ سعودی شہروں، شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو حوثیوں کے فضائی حملوں سے بچانے کے لیے رائل ایئر فورس کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرے گا۔
برطانوی وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے کہا کہ طیارے سعودی عرب کی فضائی حدود میں دفاعی کارروائیاں کریں گے اور حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے نہیں کریں گے۔ اے پی کے مطابق برطانیہ فوجی مشیر اور ایک ٹرانسپورٹ طیارہ بھی فراہم کرے گا، جبکہ فضائی ایندھن کی فراہمی کا موجودہ مشن مزید 90 روز جاری رہے گا۔
اس سے قبل برطانیہ نے 22 ستمبر کو سعودی درخواست پر آر اے ایف وائیجر طیارہ فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ طیارہ دوران پرواز لڑاکا طیاروں کو ایندھن فراہم کرتا ہے، جس سے وہ زیادہ دیر تک فضا میں رہ سکتے ہیں۔ برطانیہ پہلے ہی سعودی عرب کو میزائل اور ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے فضائی دفاعی سازوسامان اور اہلکار فراہم کررہا ہے۔
حالیہ حملوں نے سعودی شہری اور اقتصادی تنصیبات پر دباؤ بڑھایا ہے۔ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پیر کو حوثیوں نے ینبع، شیبہ، ریاض اور ابہا میں سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے مزید دعوے کیے۔ سعودی حکام نے فوری طور پر ان کی تصدیق نہیں کی، جبکہ رائٹرز بھی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔
یمن کے اندر بھی لڑائی میں شدت آئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق پیر کو شبوہ میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمپ پر حوثیوں کے حملے میں 58 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
اس تنازع کا پس منظر ایک دہائی سے زیادہ پرانا ہے۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے مارچ 2015 میں یمنی صدر کی درخواست پر فوجی مداخلت کی تھی۔ اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی نے تشدد اور شہری ہلاکتوں میں کمی پیدا کی، تاہم مستقل سیاسی تصفیہ نہیں ہوسکا۔
برطانیہ اس سے پہلے بھی حوثیوں کے خلاف ٹائفون طیارے استعمال کرچکا ہے۔ فروری 2024 میں برطانوی طیاروں نے امریکا کے ساتھ یمن میں ان تنصیبات پر حملے کیے تھے جنہیں برطانیہ نے بحیرۂ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی پر حملوں سے منسلک قرار دیا تھا۔ موجودہ تعیناتی کو سعودی عرب کے فضائی دفاع کا مشن بتایا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت رابطے میں ہیں۔ رواں ماہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ حوثیوں سے سیاسی رابطے کی تجویز معاہدے کے رکن ممالک کے درمیان فوجی کارروائی کے متبادل کے طور پر زیر بحث آئے گی۔
برطانیہ اپنی معاونت کو علاقائی استحکام، تجارت اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ سے جوڑتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ خلیج میں عدم تحفظ برطانوی گھرانوں اور کاروباروں کے اخراجات بھی بڑھا سکتا ہے۔





