دوشنبے: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو کہا کہ پاکستان افغان طالبان حکام سے صرف یہ توقع رکھتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے محدود اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے بغیر مستقل اقتصادی ترقی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، مستحکم، خوشحال اور علاقائی تعاون میں شامل افغانستان کا خواہاں ہے، جو اپنے اندر اور تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن سے رہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی ترقی اور اس کے عوام کی فلاح کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔
ان کے مطابق، اس کے بدلے پاکستان کی افغان طالبان حکومت سے صرف ایک توقع ہے کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
وزیر خارجہ نے افغانستان میں استحکام کو پورے خطے کے امن کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ پاکستان پُرامن ہمسائیگی کو علاقائی ترقی اور خوشحالی کی بنیادی شرط سمجھتا ہے۔
ان کا بیان اسلام آباد اور کابل کے درمیان عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر جاری کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ پاکستان افغان حکام پر کالعدم پاکستانی طالبان، جنہیں اسلام آباد فتنہ الخوارج کہتا ہے، کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے۔ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ یہ گروہ افغانستان کے حکمران طالبان سے الگ ہے، تاہم دونوں کے قریبی تعلقات ہیں۔
17 اکتوبر کو بھی پاکستانی فورسز اور افغان طالبان اہلکاروں کے درمیان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق جھڑپیں عسکریت پسندوں کی دراندازی کی کوشش کے بعد ہوئیں۔
سلامتی کے اس تنازع کے اقتصادی اثرات بھی ہیں۔ اکتوبر 2025 کی مہلک جھڑپوں کے بعد پاکستان نے سرحدی گزرگاہیں بند کردی تھیں، جس سے دوطرفہ تجارت اور علاقائی نقل و حمل کے لیے اہم راستہ متاثر ہوا۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ سرحدی سلامتی پر اختلاف برقرار رہنے کی صورت میں علاقائی رابطوں کے منصوبوں کو آگے بڑھانا کتنا مشکل ہے۔
اسحاق ڈار کے خطاب میں پاکستان کی دو بنیادی ترجیحات ایک ساتھ سامنے آئیں: سرحد پار دہشت گردی کی روک تھام اور یوریشیا میں اقتصادی روابط کی توسیع۔
انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم گزشتہ 25 برس سے باہمی اعتماد اور تنوع کے احترام کے اصولوں پر قائم ہے، جبکہ اس کے تعاون کا دائرہ تجارت، بنیادی ڈھانچے، ثقافت اور جدت تک پھیل چکا ہے۔
2001 میں قائم ہونے والی تنظیم کے اب دس رکن ممالک ہیں، جن میں پاکستان، چین، روس، بھارت، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔ پاکستان 2017 میں اس کا مکمل رکن بنا تھا۔ تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ سالانہ اجلاس میں اقتصادی تعاون اور بجٹ سے متعلق امور پر فیصلے کرتی ہے۔
ڈار نے 2024 میں اسلام آباد میں کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کی میزبانی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے رواں سال تنظیم کے علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے کی سربراہی بھی مکمل کی، جبکہ غربت میں کمی سے متعلق ورکنگ گروپ کی قیادت کے دوران اپنے تجربات شیئر کیے اور دوسرے ممالک سے سیکھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان رواں سال غربت میں کمی کے لیے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے کردار کو اجاگر کرنا چاہتا ہے۔
تنظیم میں پاکستانی صدارت کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے پیش کردہ موضوع ’’تصور سے عمل تک: رابطے، جدت اور مشترکہ خوشحالی‘‘ کا حوالہ دیا۔
ان ترجیحات میں امن، سلامتی اور باہمی اعتماد؛ علاقائی رابطے اور تجارت؛ مصنوعی ذہانت، جدت اور ڈیجیٹل تبدیلی؛ موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے کی صلاحیت اور پائیدار توانائی؛ اور عوامی روابط شامل ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ مؤثر علاقائی اقتصادی انضمام کے لیے بنیادی شعبوں، خصوصاً توانائی اور ٹرانسپورٹ میں ہدف کے مطابق سرمایہ کاری ضروری ہے۔
انہوں نے زراعت، کان کنی، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری بڑھانے کی حمایت کی تاکہ خطے میں زیادہ مضبوط اور باہم مربوط معیشت قائم ہوسکے۔
ڈار نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کو شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام شراکت داروں کے لیے وسیع اقتصادی تعاون میں شرکت کا موقع قرار دیا۔ اس تناظر میں سی پیک کی اہمیت ٹرانسپورٹ، توانائی اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر اس کی توجہ ہے، جنہیں انہوں نے علاقائی منڈیوں کو جوڑنے کے لیے ضروری قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، جدت، توانائی میں تعاون اور بین الاقوامی معلوماتی سلامتی کو تنظیم کے آئندہ تعاون کے اہم ستون بننا چاہیے۔
مالی تعاون کے حوالے سے اسحاق ڈار نے باہمی ادائیگیوں میں قومی کرنسیوں کے استعمال کی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔ ایسے انتظامات کے تحت شریک ممالک طے شدہ لین دین کی ادائیگی کسی تیسری کرنسی پر مکمل انحصار کے بجائے اپنی کرنسیوں میں کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ترقیاتی بینک، ترقیاتی فنڈ اور سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کی بھی حمایت کی۔ ان کے مطابق یہ مالی ذرائع ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور عالمی مالیاتی دھچکوں کے اثرات کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
یہ مالی تعاون مضبوط بنانے کی تجاویز تھیں، ان اداروں کے فعال ہوجانے کا اعلان نہیں۔ تنظیم میں ترقیاتی بینک اور فنڈ پر کئی برس سے بات ہورہی ہے اور سابقہ اجلاسوں کے فیصلوں میں بھی ان پر مزید کام کرنے کی حمایت کی گئی تھی۔
اسحاق ڈار نے تجارتی تحفظ پسندی اور یک طرفہ جبری اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقتصادی ترقی کو محدود، ٹیکنالوجی کی پیش رفت کو متاثر اور عدم مساوات کو بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے منصفانہ ترقی کے لیے عالمی مالیاتی اور تجارتی نظام میں اصلاحات ضروری قرار دیں۔
انہوں نے تاجکستان کی حکومت، تنظیم کے سیکریٹری جنرل، علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے کے ڈائریکٹر اور اجلاس کی دستاویزات کی تیاری میں شامل حکام کو مبارک باد دی۔
ڈار نے کہا کہ مشترکہ اعلامیہ اور بیانات رکن ممالک کی مشترکہ خواہشات اور وعدوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قومی رابطہ کاروں اور ماہرین کی تیار کردہ دستاویزات منظور کرلی جائیں گی۔
انہوں نے ازبکستان کو 2026 اور 2027 کے لیے کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کی سربراہی سنبھالنے پر بھی مبارک باد دی اور کہا کہ پاکستان اگست 2027 میں کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے سربراہی اجلاس کے لیے تنظیم کے رہنماؤں کا اسلام آباد میں خیرمقدم کرے گا۔
دونوں کونسلوں کے کردار الگ ہیں۔ سربراہان حکومت کی کونسل اقتصادی اور بجٹ سے متعلق تعاون دیکھتی ہے، جبکہ سربراہان مملکت کی کونسل تنظیم کی اعلیٰ ترین سیاسی سمت متعین کرتی ہے۔ اس لیے پاکستان میں آئندہ سربراہی اجلاس دوشنبے میں پیش کردہ ترجیحات کو آگے بڑھانے کا الگ موقع فراہم کرے گا۔




