کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ورلڈ کلچر فیسٹیول 2026 کے تحت دوسری آرٹ نمائش ’کانسٹیلیشنز‘ کا افتتاح کر دیا گیا، جس میں پاکستان کے 22 اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے چھ فنکاروں کے فن پارے نمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔
سندھ کے چیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ نے جمعرات، 5 نومبر کی شام احمد پرویز گیلری میں نمائش کا افتتاح کیا۔ یہ تقریب فیسٹیول کے آٹھویں روز منعقد ہوئی، جس میں مصوری، تھیٹر اور مختلف ثقافتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
نمائش 9 نومبر تک جاری رہے گی، جبکہ ورلڈ کلچر فیسٹیول کی دیگر سرگرمیاں 22 نومبر تک آرٹس کونسل میں منعقد کی جائیں گی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری نے کہا کہ فن جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر ہو کر مختلف معاشروں اور ثقافتوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے فیسٹیول کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور شہریوں کو آئندہ پروگراموں میں شرکت کی دعوت دی۔
پاکستانی اور غیر ملکی فنکاروں کے کام کی نمائش
’کانسٹیلیشنز‘ میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کے ساتھ بین الاقوامی فنکاروں کے کام کو بھی جگہ دی گئی ہے۔
اس نمائش کا مقصد مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور فنونِ لطیفہ کے ذریعے رابطوں کو فروغ دینا ہے۔
آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیسٹیول کے انعقاد میں صوبائی حکومت کے تعاون کو سراہا۔
انہوں نے چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے کمشنر کی حیثیت سے بھی انہوں نے آرٹس کونسل کی ترقی میں کردار ادا کیا تھا۔
احمد شاہ کے مطابق ادارہ ثقافتی تنوع، مختلف نظریات کے احترام اور فنکاروں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔
سنگاپور کے فنکار کی براہِ راست مصوری
نمائش کے افتتاح سے قبل سنگاپور کے فنکار یپ یو چونگ نے براہِ راست مصوری کی ورکشاپ منعقد کی، جس میں آرٹ کے طلبہ اور شائقین نے شرکت کی۔
فنکار نے حاضرین کے سامنے تصویر بناتے ہوئے مصوری کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کے جواب بھی دیے۔
انہوں نے فیسٹیول کے لیے ’میرا کراچی‘ کے عنوان سے ایک دیواری فن پارہ بھی تیار کیا، جس کی رونمائی کی گئی۔
یپ یو چونگ اپنے فن میں شہروں کی روزمرہ زندگی، مقامی ثقافت اور معاشرتی یادداشت کو موضوع بناتے ہیں۔
ورکشاپ کے ذریعے طلبہ کو فن پارہ تخلیق ہونے کے مختلف مراحل براہِ راست دیکھنے کا موقع ملا۔
بچوں کے لیے تھیٹر اور دیگر پرفارمنسز
فیسٹیول کے آٹھویں روز بچوں کے لیے ڈراما ٹرائے! اسٹو اویز اِن دی ٹروجن ہارس بھی پیش کیا گیا، جس کی ہدایت کاری عظمیٰ صابین نے کی۔
جرمن ڈرامے سے ماخوذ اس اردو پیشکش میں قدیم یونانی داستان ٹروجن ہارس کو بچوں کے نقطۂ نظر سے پیش کیا گیا۔
آرٹس کونسل میں اس ڈرامے کی پیشکش میں بچوں اور ان کے اہل خانہ نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ امریکی پرفارمنس گروپ انیکایا کا ڈراما للتھ بھی جمعرات کی شام کے پروگرام میں شامل تھا۔
فیسٹیول کے دوران تھیٹر، موسیقی، مصوری اور مختلف ورکشاپس کا سلسلہ جاری رہے گا۔
بین الاقوامی ثقافتی روابط میں کراچی کا کردار
ورلڈ کلچر فیسٹیول پاکستانی اور غیر ملکی فنکاروں کے درمیان رابطوں اور مشترکہ تخلیقی سرگرمیوں کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔
ایسے پروگرام مقامی فنکاروں اور طلبہ کو دوسرے ممالک کے فنکاروں کے تجربات سے سیکھنے اور اپنے کام کو نئے ناظرین تک پہنچانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
’کانسٹیلیشنز‘ میں 28 فنکاروں کی شرکت اسی ثقافتی تبادلے کی ایک مثال ہے۔
تاہم اس نوعیت کے پروگراموں کے دیرپا اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فیسٹیول کے بعد بھی فنکاروں کے درمیان تعاون، مشترکہ منصوبوں اور نمائشوں کا سلسلہ کس حد تک جاری رہتا ہے۔
شائقین 9 نومبر تک احمد پرویز گیلری میں نمائش دیکھ سکیں گے، جبکہ فیسٹیول کی دیگر سرگرمیاں 22 نومبر تک جاری رہیں گی۔





