نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی رویندر سنگھ نیگی نے بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کی آنے والی فلم کنگ کے ایک گانے میں دیپیکا پڈوکون کے زعفرانی لباس پر اعتراض کرتے ہوئے منظر تبدیل نہ کرنے کی صورت میں ملک گیر احتجاج اور فلم کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔
دہلی کے حلقے پٹپڑ گنج سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی نے یہ بیان دائنک سماچار کو دیے گئے انٹرویو میں دیا، جہاں انہوں نے فلم کے گانے تو مل جائے میں دیپیکا کے لباس کو سناتن دھرم کی توہین قرار دیا۔
یہ گانا دو نومبر کو شاہ رخ خان کی 61ویں سالگرہ کے موقع پر جاری کیا گیا تھا، جبکہ فلم 24 دسمبر 2026 کو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
انٹرویو کے دوران نیگی نے شاہ رخ خان کے لیے مذہبی تعصب پر مبنی لفظ ’’جہادی‘‘ بھی استعمال کیا اور الزام لگایا کہ فلم میں زعفرانی رنگ کا استعمال ہندو مذہبی روایات کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
تاہم فلم سازوں کی جانب سے کسی مذہب کی توہین کی نیت کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
منظر تبدیل نہ کرنے پر ملک گیر احتجاج کی دھمکی
رویندر سنگھ نیگی نے مطالبہ کیا کہ دیپیکا پڈوکون کے زعفرانی لباس والے مناظر کو فلم سے ہٹایا جائے یا تبدیل کیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر شاہ رخ خان اور فلم سازوں نے ان کا مطالبہ تسلیم نہ کیا تو بھارت بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔
نیگی نے فنکاروں پر بھارتی عوام سے آمدن حاصل کرنے کے باوجود مذہبی جذبات کا احترام نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے اس معاملے کا موازنہ شاہ رخ خان اور دیپیکا کی 2023 میں ریلیز ہونے والی فلم پٹھان کے گانے بے شرم رنگ سے کیا۔
تاحال شاہ رخ خان یا دیپیکا پڈوکون کی جانب سے ان الزامات پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ فلم سازوں نے بھی متعلقہ منظر تبدیل کرنے کا اعلان نہیں کیا۔
پٹھان کا تین سال پرانا تنازع کیا تھا؟
دسمبر 2022 میں فلم پٹھان کے گانے بے شرم رنگ میں دیپیکا پڈوکون کے زعفرانی رنگ کے لباس پر بعض ہندو مذہبی تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں نے اعتراض کیا تھا۔
اس وقت مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے بھی گانے میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔
مخالفین کا مؤقف تھا کہ ہندو مذہب میں اہمیت رکھنے والے زعفرانی رنگ کو گانے میں نامناسب انداز سے استعمال کیا گیا ہے۔
اس معاملے نے بھارت میں مذہبی علامات، فنکارانہ آزادی اور فلموں پر سیاسی دباؤ سے متعلق بحث کو جنم دیا تھا۔
بعد ازاں ہدایت کار سدھارتھ آنند نے وضاحت کی تھی کہ لباس کے رنگ کے انتخاب کا مقصد کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا۔
احتجاج کے باوجود پٹھان جنوری 2023 میں ریلیز ہوئی اور اس سال کی سب سے زیادہ آمدن حاصل کرنے والی ہندی فلموں میں شامل رہی۔
سوشل میڈیا پر نئی بحث
فلم کنگ کا گانا جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے دیپیکا کے لباس کا موازنہ بے شرم رنگ میں ان کے انداز سے شروع کر دیا۔
بعض صارفین نے قیاس ظاہر کیا کہ شاید زعفرانی رنگ کا دوبارہ استعمال گزشتہ تنازع کی جانب اشارہ ہے، جبکہ کچھ نے اسے فلم کی تشہیر سے جوڑا۔
تاہم شاہ رخ خان یا سدھارتھ آنند نے ایسی کسی نیت کی تصدیق نہیں کی۔
نیگی کے بیان کے بعد بحث نے سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے، جس میں فلموں کے تخلیقی فیصلوں اور مذہبی حساسیت کے درمیان تعلق ایک بار پھر موضوع بن گیا ہے۔
کیا تنازع فلم کنگ کی ریلیز پر اثر ڈالے گا؟
سدھارتھ آنند کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم کنگ کو ریڈ چلیز انٹرٹینمنٹ اور مارفلکس پکچرز نے تیار کیا ہے۔
فلم کی کاسٹ میں شاہ رخ خان، دیپیکا پڈوکون، سہانا خان، ابھیشیک بچن، رانی مکھرجی اور انیل کپور سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔
فلم کی نمائش 24 دسمبر کو شیڈول ہے اور اس کی تشہیری مہم جاری ہے۔
بی جے پی رکن اسمبلی کی جانب سے دی گئی احتجاج کی دھمکی کسی سرکاری پابندی کے مترادف نہیں ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ فلم ساز اس مطالبے پر کوئی ردعمل دیں گے یا احتجاج کی دھمکی فلم کی نمائش پر اثرانداز ہوگی۔





