پشاور: خیبرپختونخوا کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت پیشگی گرفتاری اور نظربندی کے اختیارات دے دیے گئے ہیں، جس سے شہریوں کی شخصی آزادی سے متعلق اہم فیصلے ضلعی سطح پر کیے جاسکیں گے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3(1) کے تحت اختیارات تفویض کرنے کی منظوری دی۔

کنڈی نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد بروقت کارروائی، انتظامی تاخیر میں کمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اختیارات آئین اور قانون کے مطابق، ذمہ داری سے استعمال کیے جائیں اور ان کا غلط استعمال نہ ہو۔
تھری ایم پی او کیا ہے؟
تھری ایم پی او سے مراد امن عامہ کے آرڈیننس کی دفعہ تین ہے۔ اس کے تحت مجاز اتھارٹی کسی شخص کو ایسی سرگرمی سے روکنے کے لیے پیشگی نظربندی کا حکم دے سکتی ہے جسے عوامی سلامتی یا امن عامہ کے لیے خطرہ سمجھا جائے۔
یہ فوجداری مقدمے میں جرم ثابت ہونے کے بعد دی جانے والی قید سے مختلف ہے۔ اس کا بیان کردہ مقصد ممکنہ خطرہ روکنا ہے؛ نظربندی کا حکم بذات خود کسی شخص کے مجرم ہونے کا ثبوت نہیں۔
نئے اقدام سے اختیار استعمال کرنے والی انتظامی سطح تبدیل ہوئی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پہلے یہ اختیارات ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کے پاس تھے۔ اب پولیس کی سفارشات جانچنے اور قانونی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر بھی ہوگی۔
نظربندی کے خلاف کیا تحفظات ہیں؟
آئین کا آرٹیکل 10 پیشگی نظربندی سے متعلق تحفظات فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت نظربندی کی وجوہ 15 دن کے اندر بتانا اور حکم کے خلاف نمائندگی کا جلد موقع دینا ضروری ہے، تاہم مفاد عامہ میں بعض حقائق ظاہر نہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
تین ماہ سے زیادہ نظربندی جاری رکھنے کے لیے متعلقہ ریویو بورڈ کا جائزہ اور اس کی جانب سے کافی وجوہ موجود ہونے کی رائے ضروری ہے۔ اس لیے انتظامی اختیار کو غیر محدود قید کا اختیار نہیں سمجھا جاسکتا۔
عملی طور پر اہم سوال ہر حکم کی قانونی بنیاد ہوگا۔ پولیس کی سفارش انتظامی کارروائی شروع کرسکتی ہے، لیکن نظربندی کا فیصلہ پھر بھی متعلقہ قانون کی شرائط پر پورا اترنا چاہیے۔





