خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کو پیر کی سہ پہر پشاور موٹروے کے ایگزٹ کے قریب نامعلوم نقاب پوش مسلح افراد نے مبینہ طور پر گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا۔ یہ دعویٰ ان کے اسٹاف اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کی جانب سے کیا گیا۔
وزیر کے پرسنل سیکریٹری عالم خان کے مطابق فضل شکور خان ایک اجلاس میں شرکت کے لیے پشاور جا رہے تھے کہ چمکنی تھانے کی حدود میں مسلح افراد، جنہوں نے مبینہ طور پر پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں، نے ان کی گاڑی کو روکا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں کئی نقاب پوش مسلح افراد کو وزیر کی گاڑی کے قریب آتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک شخص گاڑی کا دروازہ کھولتا جبکہ دوسرا چلتی گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کرتا دکھائی دیتا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے ایکس پر جاری بیان میں مبینہ اغوا کو آئین، قانون، جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔
پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے ڈان کو بتایا کہ پارٹی کو وزیر کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس، چیف سیکریٹری اور انتظامیہ صوبائی حکومت کے بجائے ’دوسرے فریق‘ کا ساتھ دے رہی ہے۔
یہ واقعہ ایک روز بعد پیش آیا جب خیبر پختونخوا کے ایک اور وزیر، شکیل خان، کے خلاف بٹ خیلہ میں انٹیلی جنس ادارے کے اہلکاروں سے مبینہ فائرنگ کے واقعے پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے مقدمہ درج کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق سیکیورٹی اہلکار نائب بلال نے پولیس کو بتایا کہ وہ اتوار کو ایک سینئر افسر کے ہمراہ صابر شاہ بٹ خیلہ کے قریب گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ ایک گاڑی نے ان کا راستہ روکا۔ ان کے مطابق شکیل خان اور تین دیگر افراد گاڑی سے اترے اور فائرنگ شروع کردی، جس کے نتیجے میں وہ کمر پر زخمی ہوئے۔
سی ٹی ڈی نے شکیل خان اور دیگر افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 34، 427 اور 324 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ پولیس نے بعد میں وزیر کے گھر پر چھاپہ مارا، تاہم وہ مبینہ طور پر اپنے مسلح محافظوں کے ہمراہ فرار ہوگئے۔
دریں اثنا، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی شکیل خان سے منسوب ایک درخواست میں کہا گیا کہ انہیں کئی روز سے قتل اور اغوا کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اتوار کو بٹ خیلہ جاتے ہوئے ان پر فائرنگ کی گئی، جس پر ان کے محافظوں نے دفاع میں جوابی فائرنگ کی۔
پی ٹی آئی کارکنوں نے مالاکنڈ اور چارسدہ میں الگ الگ احتجاج کیا اور بٹ خیلہ کے واقعے اور فضل شکور خان کے مبینہ اغوا کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ چارسدہ میں مظاہرین نے وزیر کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔





