لاہور: پنجاب کے محکمہ ماحولیات نے صنعتی آلودگی اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف صوبے بھر میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف مقامات پر معائنوں کے نتیجے میں 11 صنعتی یونٹس اور اینٹوں کے بھٹے مسمار جبکہ مزید 16 یونٹس سیل کر دیے گئے۔
بدھ، 14 اکتوبر کو روزنامہ دی نیوز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں ڈائریکٹر جنرل ماحولیات عبداللہ نیئر شیخ کی ہدایات پر کی گئیں، جن کا مقصد پنجاب بھر میں آلودگی پر قابو پانا اور اسموگ کی شدت میں کمی لانا ہے۔
حالیہ کارروائیوں کے دوران محکمہ ماحولیات کی ٹیموں نے صوبے بھر میں 233 صنعتی یونٹس اور 434 اینٹوں کے بھٹوں کا معائنہ کیا تاکہ ماحولیاتی قوانین اور ضوابط پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔
حکام کے مطابق ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر 11 صنعتی یونٹس اور اینٹوں کے بھٹے مسمار کیے گئے، جبکہ مزید 16 یونٹس کو سیل کر دیا گیا۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے اور لاکھوں روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔
انسدادِ آلودگی مہم کے دوران غیر معیاری پلاسٹک کے استعمال اور اس کی تقسیم کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئیں۔
محکمہ ماحولیات کی ٹیموں نے پنجاب بھر میں 198 مقامات کا معائنہ کیا اور تقریباً 2 ہزار 519 کلوگرام غیر معیاری پلاسٹک ضبط کر لیا۔ متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کاروباری اداروں پر مالی جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
صنعتی یونٹس اور اینٹوں کے بھٹوں کے علاوہ محکمہ ماحولیات نے باربی کیو پوائنٹس سمیت کھانے پکانے والے تجارتی مراکز کا بھی معائنہ کیا تاکہ ضرورت سے زیادہ دھواں خارج کرنے والے مقامات کی نشاندہی کی جا سکے۔
اس سلسلے میں مجموعی طور پر 145 تجارتی مقامات کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر 9 مراکز کو سیل کر دیا گیا۔
انسدادِ اسموگ کی یہ تازہ کارروائیاں صوبائی حکومت کی فضائی آلودگی پر قابو پانے کی کوششوں کا حصہ ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب پنجاب میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ اسموگ ایک بڑا ماحولیاتی اور صحتِ عامہ کا مسئلہ بن جاتی ہے۔
صنعتی اخراج، اینٹوں کے بھٹوں سے اٹھنے والا دھواں اور مختلف تجارتی سرگرمیاں آلودگی کے ان ذرائع میں شامل ہیں جن کے خلاف جاری مہم کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
محکمہ ماحولیات کے تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں مختلف شعبوں کے خلاف معائنے اور قانونی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں صنعتی سرگرمیوں، غیر معیاری پلاسٹک کے استعمال اور دھواں خارج کرنے والے تجارتی مراکز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کو بہتر بنانا اور آلودگی کے ان ذرائع کو محدود کرنا ہے جو صوبے بھر میں فضائی معیار کی خرابی کا باعث بنتے ہیں۔
حالیہ معلومات کو مختصر کریںاعداد و شمار کی تکرار کم کریںخبر کا آغاز زیادہ مضبوط بنائیں.





