جنوبی وزیرستان: خیبرپختونخوا کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے انگور اڈہ میں شہری گھروں اور بازار پر افغان طالبان کی فائرنگ کی مذمت کی ہے۔ منگل کو ہونے والی سرحدی فائرنگ میں ایک مقامی شہری جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔
ثمر ہارون بلور نے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
اس سے قبل ڈان نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ افغان علاقے میں قائم چوکیوں سے پاکستانی فوجی پوسٹوں اور قریبی رہائشی علاقوں پر فائرنگ کی گئی۔ ایک گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے۔
پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔ رپورٹ میں ذرائع کے مطابق افغان سرحدی چوکیوں، مارٹر پوزیشنوں اور دفاعی بنکروں کو نشانہ بنایا گیا۔
ثمر ہارون بلور نے ملکی دفاع کے لیے مسلح افواج کی فوری کارروائی کو سراہا اور کہا کہ عوام اور قومی خودمختاری کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں، امن چاہتے ہیں اور مزید بدامنی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
مشیر اطلاعات نے سرحدی علاقوں میں شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے دفاع کے لیے پوری قوم متحد ہے۔
انگور اڈہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور شہری آمدورفت کی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سرحدی کشیدگی مقامی آبادی کے تحفظ اور روزگار کو متاثر کرسکتی ہے۔





