جوہانسبرگ: آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2027 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان گروپ مرحلے کے میچ کے ٹکٹوں کے لیے تقریباً 84 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد یہ ٹورنامنٹ کا سب سے زیادہ ٹکٹوں کی طلب والا مقابلہ بن گیا ہے۔ منتظمین نے پیر کو اس بات کا اعلان کیا۔
پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں 10 اکتوبر 2027 کو جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے وانڈررز اسٹیڈیم میں آمنے سامنے ہوں گی، جہاں تقریباً 34 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے مطابق اس مقابلے کے ٹکٹوں کے لیے مجموعی طور پر 83 لاکھ 97 ہزار 294 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جو اسٹیڈیم میں دستیاب نشستوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں۔
اسی اسٹیڈیم میں 21 نومبر کو ہونے والے ورلڈ کپ فائنل کے لیے 79 لاکھ 944 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جس کے باعث ٹکٹوں کی طلب کے لحاظ سے یہ مقابلہ دوسرے نمبر پر ہے۔
آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے لیے مجموعی طور پر 12 کروڑ سے زیادہ ٹکٹوں کی درخواستیں جمع کرائی جا چکی ہیں۔
دنیا کے 193 ممالک سے تقریباً 30 لاکھ شائقین نے ٹکٹوں کی قرعہ اندازی کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے، جو میزبان ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں ٹورنامنٹ کے لیے دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
ٹکٹوں کی قرعہ اندازی کے لیے درخواستوں کا عمل یکم اکتوبر سے شروع ہوا تھا اور 21 نومبر 2026 تک جاری رہے گا۔
اس نظام کے تحت شائقین اپنی پسند کے میچوں کے ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے درخواستیں جمع کراتے ہیں۔ قرعہ اندازی میں منتخب ہونے والے افراد کو بعد میں ٹکٹ خریدنے کے لیے ہدایات فراہم کی جائیں گی۔
آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ درخواستوں کی تعداد کو ٹکٹوں کی حتمی فروخت نہیں سمجھا جائے گا اور درخواست جمع کرانے والے ہر شخص کو ٹکٹ ملنے کی ضمانت نہیں ہے۔
ورلڈ کپ میں 14 ٹیمیں حصہ لیں گی، جبکہ 2 اکتوبر سے 21 نومبر 2027 تک 12 مقامات پر مجموعی طور پر 57 میچ کھیلے جائیں گے۔
پاکستان اور بھارت کے مقابلے میں غیر معمولی دلچسپی
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ دونوں پڑوسی ممالک کی روایتی مسابقت اور دوطرفہ مقابلوں کے محدود مواقع کے باعث دنیا بھر میں شائقین کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث دوطرفہ کرکٹ مقابلے محدود ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے آئی سی سی اور ایشین کرکٹ کونسل کے ٹورنامنٹس دونوں ٹیموں کے آمنے سامنے آنے کے اہم مواقع بن گئے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کا مقابلہ نشریاتی اداروں، اسپانسرز اور ٹورنامنٹ منتظمین کے لیے بھی تجارتی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ دنیا بھر میں شائقین کی بڑی تعداد اس میچ کو دیکھتی ہے۔
حالیہ برسوں میں بھارت کو پاکستان کے خلاف مقابلوں میں برتری حاصل رہی ہے، جبکہ پاکستان نے آخری مرتبہ 2022 کے ایشیا کپ میں بھارت کو شکست دی تھی۔
جوہانسبرگ میں ہونے والا مقابلہ پاکستان کو ایک اور بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں بھارت کے خلاف اپنا ریکارڈ بہتر بنانے کا موقع فراہم کرے گا۔
ٹکٹوں کی طلب سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ میچ دیکھنے کے خواہش مند شائقین کی تعداد اسٹیڈیم میں موجود نشستوں سے کہیں زیادہ ہے۔
تقریباً 34 ہزار نشستوں کے مقابلے میں 80 لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہونے کے باعث بڑی تعداد میں شائقین ٹکٹ حاصل نہیں کر سکیں گے، چاہے تمام نشستیں قرعہ اندازی کے ذریعے ہی کیوں نہ فراہم کر دی جائیں۔
آسٹریلیا اور بھارت کے مقابلے سے گروپ مرحلے کا آغاز
ورلڈ کپ کا آغاز 2 اکتوبر کو نمیبیا میں تین ٹیموں پر مشتمل کوالیفائنگ سپر سیریز سے ہوگا، جبکہ گروپ مرحلے کا پہلا میچ 7 اکتوبر کو بھارت اور دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کے درمیان کیپ ٹاؤن میں کھیلا جائے گا۔
یہ مقابلہ 2023 کے ورلڈ کپ فائنل کی یاد تازہ کرے گا، جس میں آسٹریلیا نے احمد آباد میں میزبان بھارت کو شکست دے کر چھٹی مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
پاکستان کو گروپ اے میں بھارت، آسٹریلیا، افغانستان، زمبابوے اور ایک کوالیفائر ٹیم کے ساتھ رکھا گیا ہے۔
گروپ بی میں انگلینڈ، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیوزی لینڈ اور ایک کوالیفائر ٹیم شامل ہوگی۔
یہ ٹورنامنٹ 24 سال بعد مینز کرکٹ ورلڈ کپ کی افریقہ میں واپسی کی علامت ہوگا۔ اس سے قبل 2003 میں جنوبی افریقہ، زمبابوے اور کینیا نے مشترکہ طور پر ورلڈ کپ کی میزبانی کی تھی۔
نمیبیا پہلی مرتبہ مردوں کے سینئر کرکٹ ورلڈ کپ کے میچوں کی میزبانی کرے گا۔
ورلڈ کپ 2027 کا فارمیٹ کیا ہوگا؟
2027 کا کرکٹ ورلڈ کپ 2023 میں بھارت میں ہونے والے 10 ٹیموں کے ٹورنامنٹ سے مختلف فارمیٹ کے تحت کھیلا جائے گا۔
ابتدائی کوالیفائنگ مرحلے کے بعد 12 ٹیمیں چھ، چھ کے دو گروپوں میں تقسیم ہوں گی اور ہر ٹیم گروپ مرحلے میں پانچ میچ کھیلے گی۔
دونوں گروپوں کی ابتدائی تین، تین ٹیموں کے علاوہ چوتھے نمبر پر آنے والی بہتر کارکردگی کی حامل ٹیم بھی سپر سیون مرحلے میں جگہ بنائے گی۔
اس مرحلے میں سات ٹیمیں راؤنڈ رابن فارمیٹ کے تحت ایک دوسرے کے مقابل آئیں گی، جبکہ پوائنٹس ٹیبل پر ابتدائی چار پوزیشنیں حاصل کرنے والی ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
سیمی فائنلز 17 اور 18 نومبر کو بالترتیب کیپ ٹاؤن اور سنچورین میں کھیلے جائیں گے، جبکہ فائنل جوہانسبرگ میں ہوگا۔
نئے فارمیٹ سے مزید ٹیموں کو مقابلے میں حصہ لینے کا موقع ملے گا اور ٹورنامنٹ میں میچوں کی مجموعی تعداد بھی بڑھے گی۔
ٹکٹوں کی طلب منتظمین کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
ٹکٹوں کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد آئی سی سی اور میزبان ممالک کے لیے تجارتی مواقع کے ساتھ انتظامی چیلنجز بھی پیدا کر رہی ہے۔
پاکستان اور بھارت کے میچ میں شائقین کی دلچسپی سے جوہانسبرگ میں سیاحت، ہوٹلوں اور دیگر خدمات سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ مختلف ممالک سے شائقین ٹورنامنٹ دیکھنے جنوبی افریقہ کا سفر کریں گے۔
تاہم ٹکٹوں کی درخواستوں اور دستیاب نشستوں کے درمیان فرق کے باعث قرعہ اندازی کے عمل، ٹکٹوں کی تقسیم اور درخواست گزاروں کو بروقت نتائج سے آگاہ کرنے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
منتظمین کو مختلف ممالک سے آنے والے شائقین کے لیے ٹرانسپورٹ، سکیورٹی اور اسٹیڈیم میں ہجوم کے انتظامات بھی کرنا ہوں گے۔
آئی سی سی کے مطابق قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے درخواست گزاروں کو رجسٹریشن کے دوران فراہم کردہ ای میل پتوں کے ذریعے معلومات دی جائیں گی۔
پاکستان اور بھارت کا میچ دیکھنے کے خواہش مند شائقین کے لیے اگلا مرحلہ ٹکٹوں کی قرعہ اندازی مکمل ہونے اور ان کی تقسیم کے نتائج کا اعلان ہوگا، جس کے بعد 10 اکتوبر 2027 کو دونوں ٹیمیں جوہانسبرگ میں آمنے سامنے ہوں گی۔





