لاہور: شاداب خان کی ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی سنچری اتوار کو قذافی اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی ایک وکٹ سے سنسنی خیز فتح کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوئی۔ آل راؤنڈر نے آخری وکٹ کے لیے ریکارڈ ساز شراکت قائم کرتے ہوئے قومی ٹیم کو سہ ملکی ون ڈے سیریز کے فائنل میں پہنچا دیا۔
242 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان شکست کے قریب دکھائی دے رہا تھا، تاہم شاداب خان اور حارث رؤف نے دسویں وکٹ کے لیے 89 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کرکے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
پاکستان نے تین گیندیں باقی رہتے ہوئے ہدف حاصل کر لیا۔ شاداب خان نے 96 گیندوں پر ناقابلِ شکست 113 رنز بنائے اور ون ڈے کرکٹ میں اپنی پہلی سنچری مکمل کی۔ اس کامیابی کے ساتھ پاکستان نے ٹورنامنٹ میں مسلسل دوسری مرتبہ ایک وکٹ سے فتح حاصل کی۔
شاداب اور حارث کی شراکت نے کامیاب ون ڈے رن چیز میں دسویں وکٹ کی سب سے بڑی شراکت کا 51 سال پرانا ریکارڈ بھی توڑ دیا، جس سے شاداب کی میچ وننگ اننگز کو ایک اور تاریخی اہمیت حاصل ہوئی۔
اس فتح کے ساتھ پاکستان نے سہ ملکی سیریز کے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا، جبکہ انگلینڈ کی ٹیم نو پاکستانی کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کے باوجود آخری وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
شاداب کی اننگز اس لحاظ سے بھی غیر معمولی رہی کہ انہوں نے اپنی سنچری آخری وکٹ کی شراکت کے دوران مکمل کی، جب پاکستان کو فتح کے لیے مزید رنز درکار تھے۔
شاداب خان کی تاریخی اننگز پر ردعمل
شاداب خان کی سنچری کے بعد حکومتی شخصیات، کرکٹ حکام، سابق کھلاڑیوں اور مختلف کرکٹ فرنچائزز کی جانب سے مبارک باد کے پیغامات سامنے آئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے شاداب خان اور حارث رؤف کی کارکردگی کو سراہا، جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مشکل صورتحال سے نکل کر ٹیم کی شاندار واپسی کو نمایاں کیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی قومی ٹیم کو کامیابی پر مبارک باد دی۔
سابق اوپنر احمد شہزاد نے دباؤ کے باوجود شاداب خان کی پُراعتماد بیٹنگ کی تعریف کی، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ فتح کے باوجود پاکستان کی بیٹنگ کارکردگی تشویش کا باعث ہے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے شاداب کی اننگز کے دوران قائم ہونے والے دو اہم ریکارڈز کو اجاگر کیا۔
آئی سی سی کے مطابق شاداب خان کے 113 رنز مردوں کی ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں آٹھویں یا اس سے نچلے نمبر پر بیٹنگ کرنے والے کسی بھی کھلاڑی کا سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔
اس کے علاوہ شاداب اور حارث رؤف کی 89 رنز کی شراکت نے کامیاب ہدف کے تعاقب میں آخری وکٹ کے لیے 64 رنز کی سابقہ ریکارڈ شراکت بھی توڑ دی، جو ویسٹ انڈیز نے 1975 میں پاکستان کے خلاف قائم کی تھی۔
وزڈن کرکٹ، ملتان سلطانز، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ڈیزرٹ وائپرز بھی ان کرکٹ اداروں اور فرنچائزز میں شامل تھے جنہوں نے شاداب خان کی کارکردگی کو سراہا۔
دوسری جانب انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے اپنے بولرز کی کارکردگی کا دفاع کیا، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ انگلینڈ کی ٹیم مزید رنز بنا سکتی تھی۔
پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آخری وکٹ کی شراکت اور مجموعی طور پر ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔
اس کامیابی کے بعد پاکستان تین میچوں میں ناقابلِ شکست رہا اور 31 اکتوبر کو ہونے والے سہ مل





