لندن: سالانہ اورائنڈ شہابی بارش شروع ہوگئی ہے، جس کے دوران آسمان پر روشنی کی تیز لکیریں دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ منظر اس وقت بنتا ہے جب زمین ہیلی کے دمدار ستارے کے چھوڑے ہوئے ذرات کی پٹی سے گزرتی ہے۔
یہ شہابی بارش ۲ اکتوبر سے ۷ نومبر تک جاری رہے گی، جبکہ اس کا عروج ۲۱ اور ۲۲ اکتوبر کی درمیانی رات متوقع ہے۔ اسے دیکھنے کا بہترین وقت آدھی رات کے بعد سے طلوع فجر تک ہے۔
یہ نظارہ صرف برطانیہ تک محدود نہیں۔ ناسا کے مطابق اورائنڈ شہابیے شمالی اور جنوبی، دونوں نصف کروں سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ پاکستان میں بھی صاف اور تاریک آسمان والے مقامات سے انہیں دیکھنے کا موقع ملے گا۔
ناسا کے مطابق تاریک آسمان تلے عموماً فی گھنٹہ تقریباً ۱۰ سے ۲۰ شہابیے نظر آسکتے ہیں۔ تاہم، اصل تعداد بادلوں، مصنوعی روشنی اور چاندنی پر منحصر ہوگی۔
گرینچ کی رائل آبزرویٹری کے مطابق اس سال عروج کے وقت چاند بدر کے قریب ہوگا، جس کی روشنی مدھم شہابیوں کو دیکھنا مشکل بنا سکتی ہے۔
نظارے کے لیے اسٹریٹ لائٹس سے دور کسی محفوظ اور کھلے مقام کا انتخاب کریں۔ آنکھوں کو اندھیرے کا عادی ہونے کے لیے تقریباً ۳۰ منٹ دیں اور آسمان کے وسیع حصے پر نظر رکھیں۔ دوربین یا ٹیلی اسکوپ کی ضرورت نہیں۔
شہابیے بظاہر اورائن، یعنی برج جبار، کے قریب سے نکلتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن آسمان کے مختلف حصوں میں نظر آسکتے ہیں۔ صرف اسی برج کو دیکھنے سے دوسرے شہابیے نظروں سے اوجھل رہ سکتے ہیں۔
یہ ذرات تقریباً ۶۶ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کے منتشر ہونے سے روشن لکیریں بنتی ہیں، جبکہ بعض شہابیے چند سیکنڈ یا منٹ تک چمکتی لکیر چھوڑ جاتے ہیں۔
ہیلی کا دمدار ستارہ آخری بار ۱۹۸۶ میں دکھائی دیا تھا اور ۲۰۶۱ میں واپس آئے گا۔ سورج کے گرد اس کا ایک چکر تقریباً ۷۶ سال میں مکمل ہوتا ہے۔
عروج کی رات نظارہ نہ ہوسکے تو آس پاس کی راتوں میں بھی کوشش کی جاسکتی ہے۔





