لاہور: جوڈیشل مجسٹریٹ نے جمعے کو تقریباً 35 ارب روپے کے جعلی امریکی ڈاک لیبلز کے مبینہ فراڈ کیس میں دو ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے، نے گزشتہ چار روزہ ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے پر فہیم اکرم اور شریک ملزم نعیم کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے مزید پوچھ گچھ کے لیے تحویل کی درخواست کی۔
مجسٹریٹ نعیم وٹو نے درخواست منظور کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو تین نومبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔
جسمانی ریمانڈ کے تحت عدالت تفتیشی ادارے کو ملزم سے پوچھ گچھ کے لیے محدود مدت کی تحویل دیتی ہے۔ اس کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں ہے۔
مبینہ فراڈ کیسے کیا گیا؟
تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ فہیم اکرم اگست 2023 سے ایک ویب سائٹ چلارہے تھے، جس کے ذریعے 50 لاکھ سے زائد جعلی امریکی ڈاک لیبلز فروخت کیے گئے۔
ڈاک لیبل پارسل پر لگایا جاتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ اس کی ترسیل کے اخراجات ادا کردیے گئے ہیں۔ جعلی لیبل اصل جیسا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے بدلے ڈاک کے محکمے کو درست ادائیگی نہیں کی جاتی۔
امریکی استغاثہ کے مطابق ویب سائٹ پر پارسل کے وزن، حجم یا منزل سے قطع نظر تقریباً دو ڈالر میں لیبل فروخت کیا جاتا تھا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق فلوریڈا کی ایک وفاقی گرینڈ جیوری نے ستمبر 2026 میں اکرم پر 51 لاکھ سے زائد جعلی لیبلز کی مبینہ فروخت کے الزام میں فردِ جرم عائد کی۔ استغاثہ نے امریکی محکمہ ڈاک کے نقصان کا تخمینہ 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زائد لگایا ہے۔
محکمہ ڈاک کا مبینہ نقصان اور لیبل فروخت کرکے ملزمان کی ممکنہ کمائی الگ اعدادوشمار ہیں۔ تفتیش کار اب بھی لین دین کی مجموعی مالیت اور تعداد کی جانچ کررہے ہیں۔
امریکی عدالت نے ویب سائٹ ضبط کرکے بند کرنے کی اجازت دی تھی۔ این سی سی آئی اے نے خانیوال کے رہائشی اکرم کو لاہور سے گرفتار کیا۔
رقم کی منتقلی کی تحقیقات
این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے بتایا کہ مبینہ کاروبار میں استعمال ہونے والے 16 بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق سات اکاؤنٹس اکرم، پانچ ان کے بھائی، دو ان کی اہلیہ اور ایک، ایک ان کی بہن اور خالہ کے زیر استعمال تھا۔
انہوں نے کہا کہ اکاؤنٹس کے درمیان رقوم کی منتقلی اور ویب سائٹ چلانے، آرڈرز نمٹانے یا ادائیگیاں وصول کرنے میں دیگر افراد کے ممکنہ کردار کی جانچ جاری ہے۔
رشتہ داروں کے اکاؤنٹس کے مبینہ استعمال کی تحقیقات جاری ہیں؛ صرف اکاؤنٹ استعمال ہونے سے کسی شخص کا جرم میں ملوث ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
عاطف امیر کے مطابق آٹھ ٹیموں نے پنجاب، اسلام آباد اور سندھ تک پھیلی تحقیقات کے دوران 35 مقامات پر چھاپے مارے اور 47 افراد سے پوچھ گچھ کی۔
تفتیش کاروں نے ٹیلی فون ریکارڈ، موبائل آلات کی نقل و حرکت سے متعلق رپورٹس اور 120 کیمروں کی ریکارڈنگ کا بھی جائزہ لیا۔ ادارے کے مطابق ملزم کا سراغ لگانے کے لیے ڈیجیٹل فارنزک طریقے اور مصنوعی ذہانت کے آلات بھی استعمال کیے گئے۔
ملزمان کے خلاف الزامات کا فیصلہ عدالتی کارروائی میں ہونا ہے۔





