لاہور: اس مبینہ فراڈ کے لیے پارسل چرانا یا ڈاک خانے میں داخل ہونا ضروری نہیں تھا۔ امریکی استغاثہ کے مطابق تقریباً دو ڈالر میں ایک جعلی ڈیجیٹل لیبل فروخت کیا جاتا اور پارسل پہنچانے کی لاگت امریکی پوسٹل سروس کو برداشت کرنا پڑتی۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے خانیوال کے رہائشی 33 سالہ فہیم اکرم کو گرفتار کیا ہے، جس پر LabelsBank.com نامی غیر مجاز ویب سائٹ کے ذریعے جعلی امریکی شپنگ لیبل فروخت کرنے کا الزام ہے۔
امریکی حکام کے مطابق 5200 سے زیادہ خریداروں نے 51 لاکھ سے زیادہ لیبل خریدے، جس سے پوسٹل سروس کو مبینہ طور پر 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زیادہ نقصان پہنچا۔ عدالتی حکم پر ویب سائٹ ضبط کرکے بند کردی گئی۔
مبینہ کاروبار جعلی لیبل کی کم قیمت اور پارسل بھیجنے کی اصل لاگت کے فرق پر قائم تھا۔ پارسل کے وزن، حجم یا منزل سے قطع نظر لیبل ایک مقررہ قیمت پر فروخت کیے جاتے تھے۔
اسی لیے 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا عدد امریکی پوسٹل سروس کے مبینہ نقصان کو ظاہر کرتا ہے، فہیم اکرم کی ثابت شدہ ذاتی آمدن کو نہیں۔
فرق سمجھنے کے لیے اگر 51 لاکھ لیبل دو ڈالر فی لیبل فروخت ہوں تو رقم ایک کروڑ دو لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ یہ صرف وضاحتی حساب ہے، ملزم کی ثابت شدہ کمائی کا تخمینہ نہیں، کیونکہ دو ڈالر کو عمومی قیمت بتایا گیا ہے اور اصل لین دین کا تعین تحقیقات میں ہوگا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق مبینہ کاروبار اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک جاری رہا۔ تفتیش کاروں نے ملزم اور اس کے رشتے داروں سمیت تحقیقات سے منسلک 16 بینک اکاؤنٹس کی نشان دہی کی ہے۔ صرف اکاؤنٹ کا مالک ہونا ہر کھاتہ دار کی دانستہ شمولیت ثابت نہیں کرتا۔
یہ مقدمہ پاکستان میں ایک آن لائن کاروبار اور مالی لین دین کو بیرون ملک ڈاک کے نظام کے مبینہ نقصان سے جوڑتا ہے۔ اس کا مرکزی معاملہ ادائیگی کا جعلی ثبوت ہے، صارفین کے بینک اکاؤنٹس میں کسی رپورٹ شدہ نقب کا نہیں۔
فہیم اکرم کو ملک کے مختلف حصوں میں تلاش اور چھاپوں کے بعد 20 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا۔
ستمبر میں اعلان کردہ امریکی فرد جرم میں سازش، جعلی ڈاک اور الیکٹرانک ذرائع سے فراڈ کے الزامات شامل ہیں۔ ان کا فیصلہ عدالت میں ہونا ہے؛ گرفتاری نہ سزا ہے اور نہ امریکا حوالگی کی تصدیق۔





