کراچی: کراچی کے علاقے بن قاسم میں منگل، 13 اکتوبر کو ایک بند فلیٹ سے دو کمسن بچیوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ خاندان گلشنِ حدید کے قریب گلشنِ فلک ناز میں کرائے کے فلیٹ میں رہائش پذیر تھا۔ پولیس کے پہنچنے پر فلیٹ اندر سے بند تھا۔
اطلاع ملنے پر پولیس نے فلیٹ میں داخل ہوکر پانچوں افراد کی لاشیں برآمد کیں، جنہیں بعد ازاں امدادی کارکنوں نے قانونی اور طبی کارروائی کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا۔
تفتیشی حکام کو جائے وقوعہ سے ایک تحریری خط بھی ملا ہے۔ پولیس کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق خط میں بے روزگاری، مالی مشکلات اور رشتہ داروں سے مدد حاصل کرنے میں پیش آنے والی دشواریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مرحوم نے کچھ عرصہ قبل گلشنِ حدید میں واقع اپنی خاندانی جائیداد فروخت کی تھی اور بعد میں کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئے تھے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مرحوم کو مالی مشکلات کا سامنا تھا اور مکان کا کرایہ بھی واجب الادا تھا۔
تفتیشی حکام واقعے کی اصل نوعیت معلوم کرنے کے لیے خط سمیت دیگر شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگرچہ ابتدائی تحقیقات میں خودکشی کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم پولیس نے ابھی کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا اور ممکنہ مجرمانہ پہلوؤں کی بھی چھان بین جاری ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ملیر سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی متعلقہ حکام کو تمام پہلوؤں سے شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کرنے، فرانزک شواہد جمع کرنے اور اموات کی اصل وجوہات معلوم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اس واقعے کے بعد معاشی مشکلات کا شکار خاندانوں کو درپیش مسائل، بے روزگاری، ہنگامی مالی امداد اور سماجی تحفظ کے نظام تک رسائی سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔
موجودہ فلاحی پروگراموں کی اس صلاحیت پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ آیا وہ اچانک مالی بحران کا شکار ہونے والے خاندانوں کو بروقت مدد فراہم کر سکتے ہیں یا نہیں۔ تاہم فلاحی نظام کی ممکنہ خامیوں اور اس واقعے کے درمیان کسی براہِ راست تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور فرانزک رپورٹس سے اموات کے حالات و واقعات واضح ہونے میں مدد ملے گی۔





