پشاور: پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں لانگ مارچ کی ناکامی، قیادت کی گرفتاریوں اور خیبرپختونخوا میں حکومت کے خاتمے پر شدید اختلافات سامنے آئے، جہاں ارکان نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔
قوم نیوز کو حاصل اجلاس کی اندرونی تفصیلات کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ لانگ مارچ کی تیاری ناکافی تھی۔ قیادت اور خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بلند بانگ دعوے کیے گئے، لیکن زمینی حقائق ان کے برعکس تھے۔
انہوں نے بتایا کہ صوابی کے دورے کے دوران انہیں احساس ہوا کہ کارکنوں کے لیے خیموں اور قیام کا مؤثر انتظام نہیں تھا۔
سلمان اکرم راجہ کے مطابق مردان میں بڑی تعداد میں لوگوں کے نہ پہنچنے پر انہوں نے شفیع جان سے استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ 90 میں سے صرف 20 ارکان صوبائی اسمبلی رابطے میں ہیں، جبکہ باقی ارکان نہ لانگ مارچ کے لیے اقدامات کررہے ہیں اور نہ جواب دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنرل سیکریٹری علی اصغر نے انہیں متبادل منصوبے کی موجودگی کا بتایا، تاہم تفصیلات پوچھنے پر صرف یہ کہا گیا کہ فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہوگا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ علی امین گنڈاپور بھی احتجاج کے لیے نکلتے وقت منصوبے سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیتے تھے۔
مشال یوسفزئی نے اجلاس میں کہا کہ پارٹی مشکل صورت حال میں ہے اور اب بیرسٹر سیف سے رابطہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق بیرسٹر سیف ہی مسائل حل کرسکتے ہیں اور وہ واحد شخص ہیں جو عمران خان سے ملاقات کروا سکتے ہیں۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کی سابق حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کے زیر سایہ کرپشن کے انبار لگ گئے۔ مشال یوسفزئی نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ نے عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اپنے لوگوں کو نوازا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کی ایک سالہ کارکردگی کے باعث لوگ تحریک انصاف سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر سیف عمران خان کو تمام صورت حال سے آگاہ کریں گے۔
جواب میں حافظ فرحت نے کہا کہ ایسے شخص پر الزامات نہ لگائے جائیں جو جواب دینے کے لیے اجلاس میں موجود نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کسی فرد سے نفرت میں اپنی ہی جماعت پر حملہ کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟
تیمور جھگڑا نے کہا کہ منصوبہ بندی اور لانگ مارچ میں نقائص ضرور تھے، لیکن تمام ذمہ داری سہیل آفریدی پر نہیں ڈالی جاسکتی، کیونکہ سب اس کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کے رہنما ہیں اور انہیں بھی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ سب کچھ اچھا نہیں ہوا، لیکن تنقید میں نفرت نہیں ہونی چاہیے۔
تیمور ملک نے مشال یوسفزئی کی باتوں سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر سیف سے جلد از جلد رابطہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بات نہ مان کر پارٹی نے بہت بڑی غلطی کی۔
حلیم عادل شیخ نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے ساتھ تمام معاملات طے پاگئے تھے، لیکن محمود خان اچکزئی کی سہیل آفریدی کو فون کال نے صورت حال بدل دی۔
ان کے مطابق محمود خان اچکزئی نے سہیل آفریدی سے کہا کہ اگر انہوں نے مسودے پر دستخط کیے تو وہ ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔ حلیم عادل شیخ نے الزام عائد کیا کہ اچکزئی نے سہیل آفریدی کو مسودے سے اتفاق نہ کرنے پر آمادہ کیا اور پارٹی کے منصوبے کو نقصان پہنچایا۔
کور کمیٹی نے بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف کو اڈیالہ جیل کے امور کے لیے نمائندہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس میں پولیٹیکل کمیٹی ختم کرکے فیصلوں کا اختیار پارلیمانی کمیٹی کو دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اس تجویز کی حتمی توثیق عمران خان کی تشکیل کردہ پارٹی کور کمیٹی سے لی جائے گی۔





