خیبرپختونخوا میں مسلسل تین انتخابات کے بعد حکومت بنانے والی پاکستان تحریک انصاف اس وقت ایک بڑے سیاسی بحران کا سامنا کررہی ہے۔ صوبائی حکومت کے خاتمے، لانگ مارچ کی ناکامی اور قیادت کے خلاف کارروائیوں نے جماعت کے اندر اختلافات کو بھی نمایاں کردیا ہے۔
تاہم موجودہ صورت حال کو سمجھنے کے لیے صوبے میں تحریک انصاف کے اقتدار، کارکردگی اور تنازعات پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔
2013: اتحادی حکومت سے آغاز
2013 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف خیبرپختونخوا اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، لیکن اپنے طور پر حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل نہ کرسکی۔
آزاد ارکان کی شمولیت اور مخصوص نشستیں ملنے کے باوجود اسے اتحادیوں کی ضرورت رہی۔ جماعت نے جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی اور عوامی جمہوری اتحاد پاکستان کے ساتھ مل کر حکومت بنائی، جبکہ بعض آزاد ارکان نے بھی اس کی حمایت کی۔
عمران خان نے وزارت اعلیٰ کے لیے اپنے قریبی ساتھی پرویز خٹک کا انتخاب کیا۔
تحریک انصاف نے اپنی پہلی صوبائی حکومت کے لیے 90 روزہ اصلاحاتی اہداف پیش کیے تھے۔ ان اہداف پر عمل درآمد جماعت کی کارکردگی جانچنے کا ایک اہم پیمانہ رہا، جبکہ حکومت نے قانون سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو اپنی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا۔
اسی کارکردگی اور تبدیلی کے بیانیے کے ساتھ تحریک انصاف 2018 میں دوبارہ انتخابات میں اتری۔
2018: دوسری کامیابی، نئے منصوبے اور تنازعات
2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کی اور مجموعی طور پر 85 نشستیں حاصل کیں۔ یوں اسے مسلسل دوسری مرتبہ صوبائی حکومت بنانے کا موقع ملا۔
اس بار عمران خان نے پرویز خٹک کے بجائے مالاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے محمود خان کو وزیراعلیٰ نامزد کیا۔
قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی آئینی منظوری مئی 2018 میں ہوچکی تھی۔ اس کے بعد 2019 میں ضم اضلاع میں پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوئے اور ایوان کی مجموعی نشستیں 124 سے بڑھ کر 145 ہوگئیں۔
دوسرے دور حکومت میں سوات موٹروے جیسے منصوبوں پر پیش رفت ہوئی، لیکن پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبہ تاخیر، ڈیزائن میں تبدیلیوں اور لاگت میں اضافے کے باعث تنازع کا مرکز رہا۔
بی آر ٹی کا آغاز پہلے دور حکومت میں ہوا تھا، تاہم اس کی تکمیل دوسرے دور میں ہوئی۔ چند ماہ میں منصوبہ مکمل کرنے کے دعوؤں کے مقابلے میں تاخیر اور اخراجات میں اضافے نے اپوزیشن کو حکومت پر تنقید کا موقع دیا۔
اسی دوران مالم جبہ میں ریزورٹ اور چیئر لفٹ کے لیے زمین لیز پر دینے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ صوبائی حکام اور متعلقہ افسران پر قواعد کی خلاف ورزی اور ایک کمپنی کو غیر معمولی رعایت دینے کے الزامات عائد ہوئے، جن کی نیب نے تحقیقات کیں۔
کابینہ کے اندر اختلافات
محمود خان کی حکومت کو اندرونی اختلافات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ 26 جنوری 2020 کو سیاحت کے وزیر عاطف خان، صحت کے وزیر شہرام خان ترکئی اور ریونیو کے وزیر شکیل احمد کو کابینہ سے ہٹا دیا گیا۔
ان کے خلاف وزیراعلیٰ کے خلاف دھڑے بندی اور انہیں عہدے سے ہٹانے کی کوشش کے الزامات سامنے آئے تھے۔ اس فیصلے نے صوبائی قیادت کے اندر اقتدار کی کشمکش واضح کردی۔
شجرکاری کے منصوبوں پر بھی مالی بے ضابطگیوں، فنڈز کے مبینہ غلط استعمال اور شجرکاری کے اعدادوشمار سے متعلق سوالات اٹھے۔ اس حوالے سے صوبائی بلین ٹری سونامی اور بعد کے وفاقی ٹین بلین ٹری پروگرام میں فرق ضروری ہے، کیونکہ دونوں الگ منصوبے تھے۔
ان معاملات میں سامنے آنے والے الزامات کو تحقیقات یا حتمی عدالتی فیصلوں سے الگ رکھنا بھی ضروری ہے۔
بالآخر عمران خان کی ہدایت پر محمود خان نے جنوری 2023 میں صوبائی اسمبلی وقت سے پہلے تحلیل کردی۔
2024: تیسرا انتخابی مینڈیٹ
فروری 2024 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں نے پارٹی کا انتخابی نشان دستیاب نہ ہونے کے باعث آزاد حیثیت میں حصہ لیا۔
ان امیدواروں نے 90 سے زائد نشستیں جیت کر صوبائی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کی۔ بعد میں پارٹی پالیسی کے تحت ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی۔
یہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی مسلسل تیسری انتخابی کامیابی تھی، جس کے بعد جماعت ایک بار پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔
اس موقع پر عمران خان کے قریبی ساتھی اور سابق وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ منتخب کیا گیا۔
بعد میں قیادت کی تبدیلی کے نتیجے میں سہیل آفریدی نے وزارت اعلیٰ سنبھالی۔ انہوں نے 15 اکتوبر 2025 کو عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔
گورنر راج اور موجودہ مشکلات
11 اکتوبر 2026 کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی کی حکومت ختم ہوگئی۔ اس کے ساتھ تحریک انصاف کا صوبائی اقتدار ایک نئے انتظامی اور قانونی تنازع میں تبدیل ہوگیا۔
رپورٹ کے ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کو حراست میں لینے کے بعد شاہی مہمان خانے میں پولیس کی نگرانی میں رکھا گیا ہے، جبکہ جماعت کے متعدد ارکان صوبائی اسمبلی گرفتاریوں کے خدشے کے باعث روپوش ہیں۔
حکومت کے خاتمے اور لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد پارٹی رہنما ایک دوسرے کی حکمت عملی اور فیصلوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ یہ اختلافات جماعت کے اندر ذمہ داری کے تعین کی کشمکش کو ظاہر کرتے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان کے خلاف کارروائیوں اور گرفتاریوں میں تیزی آسکتی ہے، جبکہ زیر التوا مقدمات میں پیش رفت کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ تاہم یہ آئندہ اقدامات سے متعلق ذرائع کی اطلاعات ہیں، کسی اعلان شدہ حتمی فیصلے کی تفصیلات نہیں۔
واپسی کے امکانات پر متضاد سیاسی مؤقف
سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے اپنے تجزیے میں تحریک انصاف کی سیاسی واپسی کے امکانات مسترد کرتے ہوئے مزید مقدمات، گرفتاریوں اور سزاؤں کی پیش گوئی کی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت کی واپسی کی امید چھوڑ دے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مذاکرات بانی پی ٹی آئی کے جیل میں کھانے کے مینو یا نئی ٹریڈمل جیسے معاملات تک محدود ہوسکتے ہیں۔
تارڑ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سہیل آفریدی کے سابق وزرا انہیں چھوڑ کر چلے گئے اور کہا کہ عوام ایسے طرز عمل کو پسند نہیں کرتے۔
رپورٹ کے ذرائع بھی جماعت کی مشکلات بڑھنے اور موجودہ حکومت کے دور میں فوری ریلیف کے امکانات محدود ہونے کی بات کرتے ہیں۔ تاہم سیاسی واپسی سے متعلق حکومتی بیانات اور تجزیہ کاروں کی پیش گوئیاں اپنی جگہ، جماعت کے خلاف مقدمات کے نتائج متعلقہ قانونی اور عدالتی کارروائیوں سے طے ہوں گے۔





