مادریگیرس: اسپین کے خطے کاستیا لا مانچا میں جمعے کو شدید بارش سے آنے والے سیلاب میں ۱۰۲ سالہ خاتون ہلاک ہوگئیں، جبکہ امدادی ٹیموں نے تقریباً ۹۰ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
الباسیتے صوبے کے قصبے مادریگیرس میں سیلابی پانی گھروں اور سڑکوں میں داخل ہوگیا۔ اسپین کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی وی ای کے مطابق، ہلاک ہونے والی خاتون کے گھر میں پانی تقریباً ایک میٹر تک پہنچ گیا تھا۔
بچائے گئے بیشتر افراد ایسے گھروں میں پھنسے ہوئے تھے جہاں پانی جمع ہوگیا تھا۔ امدادی کارکنوں نے دوپہر سے رات کے ابتدائی حصے تک لوگوں کو نکالنے کی کارروائیاں کیں۔
علاقائی حکومت کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، شدید بارش کے دوران فی مربع میٹر ۱۴۰ لیٹر سے زیادہ پانی برسا، جو ۱۴۰ ملی میٹر سے زیادہ بارش کے برابر ہے۔ اردگرد کے برساتی راستوں اور ملحقہ علاقوں سے آنے والے پانی نے صورت حال مزید خراب کردی۔
حکام نے ہفتے کو بھی شدید موسمی حالات سے نمٹنے کے منصوبے کے تحت ہنگامی صورت حال کا پہلا درجہ برقرار رکھا اور بحالی کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے۔
امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ، سول گارڈ، مقامی پولیس، شہری تحفظ کی ٹیمیں، ریڈ کراس اور قریبی بلدیاتی علاقوں کے کارکن شریک تھے۔
قصبے کے طبی مرکز میں بھی پانی بھر گیا، جس کے بعد علاج کی خدمات ریڈ کراس کے مقامی دفتر منتقل کردی گئیں تاکہ مریضوں کی دیکھ بھال جاری رہ سکے۔
ہفتے کو صفائی اور بحالی کے کام میں مدد کے لیے مزید ٹیمیں اور گاڑیاں بھی طلب کی گئیں۔
مقامی رہائشیوں اور رضاکاروں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ علاقائی حکام نے ابتدا ہی سے مدد کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے ہلاک ہونے والی خاتون کے اہل خانہ سے تعزیت اور متاثرہ رہائشیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔





