ڈراما ’مٹی دے باوے‘ کی ساتویں اور آٹھویں قسط نے بالا کی زندگی میں پُرتشدد موڑ کے بعد ذات پات، انتقام اور سماجی امتیاز پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ڈان امیجز کے مطابق سوشل میڈیا پر ناظرین نے وہاج علی کی غم سے نڈھال بالا کی اداکاری، ماہرہ خان کی الجھنوں میں گھری بلقیس بانو عرف بلو اور امر خان کی زرینہ کے کردار میں کارکردگی کو سراہا ہے۔
ساتویں قسط کا اختتام ریلوے پھاٹک پر فائرنگ سے ہوتا ہے، جس میں بالا کا بھائی اسلم عرف اچھی مارا جاتا ہے۔ اگلی قسط اس صدمے کے بعد بالا کے سخت گیر بالا گجراتی بننے اور سہیل احمد کے کردار، گینگسٹر پھجا، سے تعلق کو آگے بڑھاتی ہے۔
بھائی کی آخری رسومات ادا نہ کر سکنے والے شخص کے غم سے سرد عزم تک وہاج علی کی اداکاری میں تبدیلی نے ناظرین کی خاص توجہ حاصل کی۔
بلو کے کردار پر ردعمل زیادہ منقسم ہے۔ ناظرین اس پہلو پر گفتگو کر رہے ہیں کہ وہ خود ظلم سہنے کے باوجود دوسروں کے ساتھ زیادتی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
کہانی میں شاہ خاندان اور موروثی موسیقاروں کی میراثی برادری کے درمیان سماجی فرق، رشتوں اور قبولیت کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ بالا اپنے حسب نسب سے وابستہ تعصب سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ بلو کا ماضی اس کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔
کم عمری میں بالا سے محبت، بلو کے سسر کے لیے اسے گھر سے نکالنے کی وجہ بن جاتی ہے، حالانکہ وہ بعد کی زندگی میں شادی اور گھر کی ذمہ داریاں نبھاتی رہی ہے۔ اس پر بعض ناظرین نے مذہبی وضع داری اور خاندانی عزت کے نام پر تذلیل کے رویوں پر سوال اٹھائے ہیں۔
امر خان کی زرینہ کو بھی پذیرائی ملی ہے۔ بعض ناظرین نے ان کی اداکاری کو نمایاں قرار دیا، جبکہ دوسروں نے کردار کی مشکلات سے ہمدردی ظاہر کی۔
کچھ مداحوں نے سماجی درجہ بندی، نامکمل محبت اور تباہ کن رنجش کے موضوعات کی وجہ سے کہانی کا موازنہ ایملی برونٹے کے ناول ’ودرنگ ہائٹس‘ سے کیا۔
فائزہ افتخار کی تحریر اور سید وجاہت حسین کی ہدایت کاری میں ڈراما ذاتی المیے کو سماجی تعصبات سے جوڑتے ہوئے انتقام سے آگے کے سوال اٹھاتا ہے۔





