ٹورنٹو: کسی ویب سائٹ پر نظر آنے والا اشتہار بظاہر معمول کی چیز ہوسکتا ہے۔ لیکن محققین کے مطابق الجزیرہ کے عملے کے آلات تک جاسوسی سافٹ ویئر پہنچانے کے لیے ایسے ہی اشتہارات استعمال ہوئے، جن پر کلک کرنا بھی ضروری نہیں تھا۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی تحقیقی تنظیم سٹیزن لیب نے 15 اکتوبر کو جاری تحقیقات میں بتایا کہ 2024 اور 2025 کے دوران الجزیرہ کے کم از کم 45 آلات کو نشانہ بنایا گیا۔ محققین نے ان حملوں کا تعلق اسرائیلی کمپنی کینڈیرو، جو اب انٹیگریٹی لیبز کے نام سے کام کرتی ہے، کے جاسوسی سافٹ ویئر سے جوڑا۔ ان کے مطابق اسرائیلی اشتہاری کمپنی ڈسکور ٹیک نے اسے پہنچانے میں سہولت کاری کی۔ اس طریقے کو ’ایڈفیکشن‘ کا نام دیا گیا۔
یہاں ایک فرق واضح رہنا ضروری ہے۔ تحقیقات اشتہاری ٹیکنالوجی اور تجارتی جاسوسی سافٹ ویئر سے متعلق ہیں؛ ان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تصدیق نہیں کی گئی۔ رپورٹ نے یہ بھی شناخت نہیں کی کہ الجزیرہ کے خلاف کارروائی کا حکم کس حکومت یا مخصوص گاہک نے دیا تھا۔
اس طریقے میں اشتہار کے پیچھے چلنے والا کمپیوٹر کوڈ اہم ہے۔ آن لائن اشتہار صرف تصویر نہیں ہوتا؛ اس میں ایسا کوڈ بھی ہوسکتا ہے جو براؤزر میں چلتا ہے۔ محققین کے مطابق منتخب صارف کو اشتہار دکھانے سے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوسکتا تھا جو جاسوسی سافٹ ویئر کی تنصیب تک پہنچتا۔ اسی لیے اسے ’زیرو کلک‘ حملہ کہا جاتا ہے: متاثرہ شخص کو اشتہار کھولنے یا کسی لنک پر کلک کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اشتہارات کی سیکیورٹی پر کام کرنے والی کمپنی کنفائنٹ کی الگ تحقیق میں آلات کی شناخت، معلومات جمع کرنے اور خفیہ رابطوں کا نظام سامنے آیا۔ اس نے ’کوکی میچنگ‘ بھی دریافت کی، جس میں مختلف سروسز کے اشتہاری شناختی نمبروں کو جوڑ کر صارف کو متعدد ویب سائٹس پر پہچانا جا سکتا ہے۔
کنفائنٹ کے اندازے کے مطابق ڈسکور ٹیک روزانہ تقریباً ایک کروڑ اشتہارات دکھاتی تھی۔ زیرِ مطالعہ ڈیٹا میں فلسطین کے اندر اینڈرائیڈ پر تقریباً ہر 36 میں سے ایک اشتہار اس کمپنی کا تھا۔ تاہم اشتہار دکھائی دینے، صارف کی معلومات جمع ہونے اور آلہ جاسوسی سافٹ ویئر سے متاثر ہونے کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔
صحافت کے لیے خطرہ صرف کسی ملازم کے کمپیوٹر تک محدود نہیں۔ خفیہ رسائی، حساس رپورٹنگ اور نیوز روم سے رابطہ کرنے والوں کی حفاظت کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے تحقیقات اور احتساب کا مطالبہ کیا۔ الجزیرہ نے بھی اپنے عملے کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ دیگر اداروں کے نیٹ ورکس پر اشتہارات کی موجودگی بذاتِ خود جاسوسی سافٹ ویئر کی تنصیب کا ثبوت نہیں۔
گوگل، آئی اے بی یورپ اور کامکاسٹ کی بیزویکس نے ڈسکور ٹیک کے خلاف رسائی محدود یا ختم کرنے کے اقدامات کیے۔ ڈسکور ٹیک اور کینڈیرو نے رائٹرز کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
کنفائنٹ کے مطابق ایک کمپنی کی رسائی روکنا ان بنیادی کمزوریوں کا مکمل حل نہیں، جنہوں نے اشتہاری نظام کو نگرانی کے لیے استعمال کرنے کا موقع دیا۔





