دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے سکیورٹی خلاف ورزی کے تقریباً 6.3 ارب ڈالر کے اثرات کا تخمینہ دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق صنعتی ماہرین اسے ممکنہ طور پر کرپٹو کی تاریخ کا سب سے بڑا ہیکنگ واقعہ قرار دے رہے ہیں۔
واقعے کے بعد جمعے کو ڈیجیٹل کرنسیوں میں فروخت کا دباؤ بڑھا، جس سے بٹ کوائن چھ ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگیا اور ایتھر کی قیمت بھی گری۔ فروخت کا دباؤ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بڑی تعداد میں سرمایہ کار اپنے اثاثے فروخت کرنے لگیں اور قیمتیں نیچے آجائیں۔
بائنانس کیا ہے اور واقعہ کیسے پیش آیا؟
بائنانس ایک آن لائن پلیٹ فارم ہے جہاں صارفین بٹ کوائن جیسی کرپٹو کرنسیاں خریدتے، فروخت کرتے اور رکھتے ہیں۔ کرپٹو کرنسی ڈیجیٹل شکل میں موجود اثاثہ ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک انجینئر کے ہیک شدہ لیپ ٹاپ کے ذریعے حملہ آور کو اندرونی سسٹم تک رسائی ملی، جسے استعمال کرکے غیر مجاز رقوم کی منتقلی کی درخواستیں جمع کرائی گئیں۔
کمپنی نے کہا کہ کرپٹو والٹس کی پرائیویٹ کیز افشا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ پرائیویٹ کی ایک خفیہ ڈیجیٹل کلید ہوتی ہے جو کرپٹو کی منتقلی کی منظوری کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اثاثے منجمد ہونے کا مطلب کیا رقم واپس مل گئی؟
تقریباً تین ارب ڈالر کے متاثرہ اثاثوں کی نقل و حرکت روک دی گئی ہے۔ اثاثے منجمد کرنے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ رقم کمپنی یا صارفین کو واپس مل گئی ہے۔
روکے گئے اثاثوں میں یو ایس ڈی ٹی اور یو ایس ڈی سی بھی شامل ہیں۔ انہیں اسٹیبل کوائن کہا جاتا ہے، یعنی ایسے ڈیجیٹل ٹوکن جن کی قدر عموماً ایک امریکی ڈالر کے قریب رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہیں جاری کرنے والی کمپنیاں بعض ایڈریسز سے منتقلی روک سکتی ہیں۔
بلاک چین ایڈریس کرپٹو وصول کرنے کا ڈیجیٹل پتہ ہوتا ہے، جبکہ بلاک چین لین دین کا مشترکہ ڈیجیٹل ریکارڈ ہے۔
صارفین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
بائنانس نے حفاظتی جانچ کے دوران رقوم جمع کرانے اور نکالنے کی سہولت عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔ کمپنی نے کہا کہ نقصان اپنے فنڈز اور صارفین کے تحفظ کے ہنگامی ذخیرے، سیفو، سے پورا کیا جائے گا۔
یہ کمپنی کا وعدہ ہے؛ اثاثے منجمد ہونا اور صارفین کے نقصان کی تلافی مکمل ہونا الگ مراحل ہیں۔ 6.3 ارب ڈالر کی رقم واقعے کے مجموعی اثرات کا تخمینہ ہے، وصولیوں کے بعد حتمی نقصان نہیں۔
بلاک چین کی تحقیقات کرنے والی کمپنیوں نے حملے کو شمالی کوریا کے ہیکرز سے منسلک کیا ہے۔ یہ ان اداروں کا جائزہ ہے؛ شمالی کوریا کے نمائندوں نے رائٹرز کی درخواست پر فوری مؤقف نہیں دیا۔





