ہو چی منہ سٹی: ویتنامی پولیس نے ایک مبینہ منظم نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے 12 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن پر رہائشی علاقوں سے تقریباً 2,700 بلیاں چوری کرکے انہیں گوشت کی تجارت کے لیے فراہم کرنے کا الزام ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے مختلف اقسام کی تقریباً 2,700 بلیاں چوری کرنے اور انہیں آگے منتقل کرنے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ گروہ کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی اتوار کو شروع کی گئی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق مبینہ نیٹ ورک کے افراد چھوٹے گروہوں میں کام کرتے تھے اور رات گئے اور علی الصبح موٹر سائیکلوں پر رہائشی علاقوں میں گھومتے تھے۔
پولیس کو اس مبینہ نیٹ ورک کا پہلی مرتبہ جولائی میں پتا چلا تھا۔ اس وقت کارروائی کے دوران 50 زندہ بلیوں کو بازیاب کرایا گیا جبکہ درجنوں پھندے، وزن کرنے کے آلات اور دیگر سامان بھی قبضے میں لیا گیا۔
تفتیش کاروں کے اندازے کے مطابق ہر گروہ ایک رات میں چار سے دس بلیاں چراتا تھا۔
حکام کا الزام ہے کہ چوری کی گئی بلیوں کو نیٹ ورک کے ذریعے منتقل کرنے کے بعد گوشت کی تجارت سے منسلک کاروباروں کو فروخت کیا جاتا تھا۔
ویتنام میں بلی اور کتے کا گوشت کھانا غیر قانونی نہیں، تاہم اسے فروخت کرنے والے کاروباروں کے لیے جانوروں کے اصل ماخذ سے متعلق دستاویزات فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس لیے موجودہ مقدمے کا بنیادی معاملہ گوشت کی تجارت کے بجائے گھروں سے پالتو جانور چوری کرکے انہیں غیر قانونی طور پر اس کاروبار تک پہنچانے کے الزامات ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق چوری شدہ بلیاں ریستورانوں کو کم از کم 70 ہزار ویتنامی ڈونگ، یعنی تقریباً 2.70 ڈالر فی کلوگرام، کے حساب سے فروخت کی جا سکتی ہیں۔
یہ گرفتاریاں ہو چی منہ سٹی میں بلیوں کی منظم چوری کے خلاف وسیع تر کریک ڈاؤن کے دوران سامنے آئی ہیں۔
اس سال کے آغاز میں پولیس نے بلیوں کی چوری کے دو الگ الگ مبینہ نیٹ ورکس سے تعلق کے شبہے میں 18 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ جون میں ایک اور بڑی کارروائی کے دوران 400 سے زائد بلیوں کو بازیاب کرایا گیا، جن میں سے بعض کو بعد میں ان کے مالکان کے حوالے کر دیا گیا۔
حکام اب اس تازہ معاملے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں، جبکہ گھروں سے پالتو جانور چوری کرکے انہیں تجارتی گوشت کی منڈی تک پہنچانے والے مبینہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔





