واشنگٹن: امریکہ نے یوکرین کو 2.1 ارب امریکی ڈالر مالیت کے 500 پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل فروخت کرنے کی مجوزہ ڈیل کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روسی فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو اہم دفاعی سازوسامان کی بڑھتی ہوئی قلت کا سامنا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جمعے کو اس منظوری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ فروخت سے یوکرین کی موجودہ اور مستقبل کے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط ہوگی۔
معاہدے میں پیٹریاٹ ایڈوانسڈ کیپیبلٹی تھری (پی اے سی تھری) کے 500 میزائلوں کے علاوہ متعلقہ آلات اور معاون خدمات بھی شامل ہیں۔
تاہم مجوزہ معاہدے پر امریکی کانگریس کا جائزہ ابھی باقی ہے، جبکہ واشنگٹن نے میزائلوں کی فراہمی کے لیے کسی حتمی شیڈول کا اعلان نہیں کیا۔
یورپی اتحادی 2.1 ارب ڈالر کی خریداری کے لیے مالی معاونت فراہم کریں گے
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق میزائلوں کی خریداری کے لیے امریکہ کے جمپ اسٹارٹ (JUMPSTART) پروگرام کے تحت کینیڈا، جرمنی اور ناروے مالی معاونت فراہم کریں گے۔
اس کے علاوہ یورپی یونین کے یوکرین سپورٹ لون کی مدد سے یوکرین کے قومی فنڈز بھی خریداری کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اس مجوزہ خریداری کے لیے امریکی حکومت کے فنڈز استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
امریکی دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو معاہدے کا مرکزی ٹھیکیدار نامزد کیا گیا ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فروخت یوکرین کی سلامتی اور اس کے مربوط فضائی و میزائل دفاعی نظام کو مضبوط بنا کر امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کی حمایت کرے گی۔
میزائلوں کی فراہمی میں کئی سال لگ سکتے ہیں، زیلنسکی
امریکی منظوری کے باوجود یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے میزائلوں کی فراہمی میں ممکنہ تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جمعے کو جاری بیان میں زیلنسکی نے خبردار کیا کہ نئے منظور شدہ معاہدے کے تحت میزائلوں کی فراہمی شروع ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے واشنگٹن اور یورپی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ یوکرین کو پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کی فوری قلت سے نکالنے کے لیے کوئی ہنگامی حل تلاش کریں۔
یوکرینی صدر نے تجویز دی کہ اتحادی ممالک اپنے موجودہ ذخائر سے یوکرین کو میزائل فراہم کر سکتے ہیں، جن کی کمی بعد میں نئی خریداری کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہے۔
ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری اور دفاعی سازوسامان کی فوری دستیابی دو الگ معاملات ہیں۔
میزائلوں کی فراہمی کا حتمی شیڈول تاحال طے نہیں ہوا
اگرچہ مجوزہ معاہدے کے تحت یوکرین کو مزید 500 پیٹریاٹ دفاعی میزائل فراہم کیے جائیں گے، تاہم فراہمی کا حتمی شیڈول سامنے نہ آنے کے باعث یہ واضح نہیں کہ میزائل کب دستیاب ہوں گے۔
معاہدے پر مزید عمل درآمد سے قبل امریکی کانگریس کی جانب سے اس کا جائزہ لیا جانا بھی باقی ہے۔
روسی حملوں کے تسلسل اور یوکرین کے موجودہ فضائی دفاعی ذخائر میں کمی کے پیش نظر میزائلوں کی بروقت فراہمی کیف کے لیے ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
امریکہ کی تازہ منظوری یوکرین کی دفاعی صلاحیت کو طویل مدت میں مضبوط بنانے کی جانب ایک قدم ہے، تاہم اس سے ملک کو درپیش میزائلوں کی فوری قلت دور ہونے کی ضمانت نہیں ملتی۔





