کیف: یوکرین نے کہا ہے کہ سیٹلائٹ مواصلاتی سروس پر پابندیوں سے فوجی کارروائیاں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ توانائی کی تنصیبات پر روسی حملوں کے بعد لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہوگئے۔
صدر کے ٹیکنالوجی مشیر سرہی بیسکریستنوف نے کہا کہ حرکت کرتے سیٹلائٹ ٹرمینلز پر رفتار کی حد نافذ کرنے سے پہلے یوکرینی افواج کو مطلع نہیں کیا گیا، جس سے متعدد مشنز متاثر ہوئے۔
حکام کے مطابق تقریباً 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر رابطے متاثر ہو رہے تھے۔ وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس سے ڈرون روکنے کی کارروائیوں، نگرانی اور محاذ تک رسد پہنچانے کی صلاحیت پر اثر پڑا ہے۔
اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے بعد ازاں کہا کہ فوجی اسٹار شیلڈ نظام امریکی حکومت کی ملکیت اور کنٹرول میں ہے، اور رفتار یا استعمال کی حدود امریکی فوج اور بالآخر صدر ڈونلڈ ٹرمپ طے کرتے ہیں۔
انہوں نے فوجی اسٹار شیلڈ اور شہری اسٹارلنک سروس میں فرق واضح کیا۔ دونوں نظام اسپیس ایکس نے تیار کیے ہیں۔
یوکرین کے سابق وزیر دفاع میخائیلو فیدوروف نے کہا کہ 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک رابطہ بحال کیا جا رہا ہے، تاہم فوجی سروس پر رفتار کی حد مکمل ختم کرنا ضروری ہے۔
اسی دوران صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی میزائل اور ڈرون حملوں سے بجلی کی 26 اور تیل و گیس کی چار تنصیبات کو نقصان پہنچا، جبکہ کم از کم چھ لاکھ افراد بجلی سے محروم ہوئے۔
انہوں نے ماسکو پر توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کی ٹرمپ کی تجویز کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
تاہم، اس تجویز پر حتمی اتفاق کی حیثیت واضح نہیں تھی۔ روسی حکام نے مذاکرات جاری ہونے کا کہا، لیکن معاہدہ طے پانے کی تصدیق نہیں کی۔
اے ایف پی کے مطابق پابندیوں نے فوجی مواصلات میں یوکرین کا سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر انحصار نمایاں کیا ہے۔ ان کی وجہ اور واشنگٹن سے سیاسی اختلافات کے ساتھ تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔





