واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد واشنگٹن یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائیوں میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے حملے کی مذمت کی اور کہا کہ امریکہ کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ کرنے سے قبل صورتحال کا جائزہ لے گا۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا امریکی افواج حوثیوں کے خلاف حملوں میں حصہ لیں گی تو انہوں نے کہا، ’’ممکن ہے، ہم اس کا جائزہ لیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں ابھی حالیہ حملے کے بارے میں معلوم ہوا ہے، اس لیے ہم فیصلہ کریں گے۔ ہم بہت تیزی سے اقدامات کرتے ہیں۔‘‘
سعودی حکام کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے۔
ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری، دو بنگلہ دیشی شہری جبکہ امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک ایک شہری شامل تھا۔
ٹرمپ نے اس سے قبل سعودی عرب کے دو ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے ان واقعات پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے صحافیوں سے کہا، ’’یہ اچھا نہیں ہوا۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ میں اس سے خوش نہیں ہوں۔‘‘
سعودی عرب یمن میں سرگرم ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے خلاف فوجی کارروائیاں کر رہا ہے۔
ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف سعودی فوجی کارروائیوں میں امریکی شمولیت تاحال زیرِ غور ہے، تاہم امریکی افواج کی شرکت سے متعلق ابھی کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔





