حیدرآباد: حیدرآباد کے علاقے پریٹ آباد میں بدھ کو معمولی تنازع کے دوران مبینہ فائرنگ سے تین افراد زخمی ہو گئے، جس کے بعد پولیس نے سندھ پولیس ہائی وے پٹرول کے ایک انسپکٹر اور اس کے دو محافظوں کو حراست میں لے لیا۔
ایس ایس پی حیدرآباد شہزیب چاچڑ نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متعلقہ انسپکٹر اس وقت ضلع جامشورو میں تعینات تھا۔
اسپتال حکام کے مطابقمتاثرہ شخص کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ دیگر دو زخمی زیر علاج ہیں۔
تھانہ پنیاری میں متاثرہ شخص کے بھائی کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق تنازع اس وقت شروع ہوا جب انسپکٹر نے مبینہ طور پر گھر کے باہر کھڑی موٹر سائیکل کو لات مار کر گرا دیا۔
مدعی کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی گاڑیوں کی پارکنگ کے معاملے پر انسپکٹر اور اہل خانہ کے درمیان تلخ کلامی ہو چکی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق بدھ کو ہونے والے جھگڑے کے دوران انسپکٹر نے مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کی اور خاندان کی ایک خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
متاثرہ شخص نے معاملے میں مداخلت کی تو انسپکٹر نے مبینہ طور پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ارشاد سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔ زخمی ہونے والے دیگر دو افراد وہاں سے گزر رہے تھے۔
متاثرہ شخص کے بیٹے نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد موبائل فون پر واقعے کی ویڈیو بنا رہے تھے، جس پر انسپکٹر مزید مشتعل ہو گیا۔
لیاقت یونیورسٹی اسپتال کے ڈاکٹروں کے مطابق متاثرہ شخص کا ہنگامی آپریشن کیا گیا، جس کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کا مقدمہ اقدامِ قتل، خاتون پر تشدد اور اشتعال انگیزی سے متعلق پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے علاوہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
تاہم ملزمان کے خلاف عائد الزامات کا فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔





