نئی دہلی: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان سے واشنگٹن کے تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی جغرافیائی اہمیت اور جوہری صلاحیت کے باعث اس سے رابطہ برقرار رکھنا ضروری ہے۔
دورۂ بھارت کے دوران نیٹ ورک 18 کو انٹرویو دیتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی چلانے کے لیے ان ممالک سے بھی تعلقات رکھنا پڑتے ہیں جن کے ساتھ اختلافات موجود ہوں۔
پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایسا ملک ہے جس کے ساتھ امریکا کو تعلق رکھنا ضروری ہے اور جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔
روبیو نے اسلام آباد سے امریکی رابطوں کا موازنہ ایران کے ساتھ بھارت کے تعلقات سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت بھی ایران سے تعلقات رکھتی اور اس کی قیادت سے ملاقاتیں کرتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی اور بھارتی حکام دوطرفہ تجارت، دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی پر بات چیت کررہے تھے۔ ان کے تبصرے بھارت سے شراکت داری آگے بڑھانے کے ساتھ پاکستان سے روابط برقرار رکھنے کے معاملے سے متعلق تھے۔
امریکی وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ ایسے تعلقات میں توازن قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے، تاہم اسے سفارت کاری کی ضرورت قرار دیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی قیادت تک رسائی واشنگٹن کو بھارت کے خدشات سے متعلق معاملات اٹھانے کا موقع دے سکتی ہے۔
روبیو کے مطابق اگر امریکا کے پاکستان سے تعلقات ہوں اور وہ اس سے بات کرسکے تو ممکن ہے کہ وہ ان اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنے کی پوزیشن میں ہو جن کے بارے میں بھارت کو تشویش ہے۔
رپورٹ میں نقل کیے گئے ان کے بیان میں کسی مخصوص اقدام یا سلامتی سے متعلق خدشے کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ اب وہ سینیٹر نہیں بلکہ وزیر خارجہ ہیں اور ان کی ذمہ داری امریکا کی خارجہ پالیسی چلانا ہے۔ اس منصب کے تحت انہیں ان حکومتوں سے بھی رابطہ رکھنا ہوتا ہے جن کے ساتھ بعض معاملات پر اختلافات ہوں۔
ان کے بیان میں اسلام آباد سے مسلسل رابطے کو خارجہ پالیسی کی عملی ضرورت کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ بھارتی سامعین کو ان تعلقات کے مقصد کے بارے میں یقین دہانی کرانے کی کوشش بھی کی گئی۔





