ریاض: سعودی دارالحکومت میں بدھ کو دھماکے سنے گئے، جبکہ یمن کے حوثیوں نے ظہران میں آرامکو کے ہیڈکوارٹرز کی ایک عمارت پر حملے کے بعد سعودی ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو مزید نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔
سعودی قیادت میں اتحاد نے کہا کہ ریاض کی جانب داغا گیا ایک میزائل روک لیا گیا۔ شہریوں کو موبائل فون پر فضائی خطرے کے پیغامات موصول ہوئے، جن میں محفوظ جگہ پناہ لینے کی ہدایت کی گئی۔ چند منٹ بعد الرٹ ختم کر دیا گیا۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ گروپ نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز سے ظہران میں آرامکو کی تنصیبات، ریاض ایئرپورٹ اور دارالحکومت کی ایک ریفائنری کو نشانہ بنایا۔
سعودی وزارت توانائی کے ایک اہلکار نے آرامکو کی عمارت پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ محدود آگ لگی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
کمپنی کے دو ملازمین نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہیڈکوارٹرز کے ایک ٹاور کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک ملازم نے بالائی تین منزلیں تباہ ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم خبر رساں ادارہ نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
دوسری جانب اتحاد نے مغربی یمن میں تیل کی تنصیبات پر حملے کیے۔ ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ یہ مقامات حوثیوں کی ان کارروائیوں میں مدد دے رہے تھے جو سعودی عرب اور علاقائی آبی گزرگاہوں کے لیے خطرہ ہیں۔
صنعا میں اے ایف پی کے نمائندے نے دھماکا سنا، جبکہ ایندھن کی قلت کے خدشے سے شہری پیٹرول پمپوں پر قطاروں میں کھڑے دکھائی دیے۔
حالیہ کشیدگی ہفتے کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد بڑھی، جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
فرانس نے اپنے شہریوں کو ریاض، جدہ اور دمام کے ہوائی اڈوں سے گریز کی ہدایت کی۔ اسکولوں میں آن لائن تعلیم اور بعض کمپنیوں میں گھر سے کام کا نظام نافذ کیا گیا۔
آئی ایم ایف کے مطابق سعودی معیشت رواں سال 3.3 فیصد سکڑنے کا امکان ہے۔





