سینٹ پیٹرزبرگ: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے آئندہ ماہ یوکرین اور امریکا کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اصولی اتفاق کیا ہے، تاہم جنگ ختم کرنے کی شرائط پر کسی پیش رفت یا حتمی سمجھوتے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
کریملن کے مطابق پیوٹن نے بدھ کو سینٹ پیٹرزبرگ میں امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف سے تقریباً تین گھنٹے کی ملاقات کے دوران مذاکرات بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی سطح کی سہ فریقی بات چیت 10 نومبر یا اس کے بعد ابوظبی میں ہوسکتی ہے۔ مذاکرات میں جنگ کے خاتمے کے بعد روس اور یوکرین کی سلامتی یقینی بنانے کے انتظامات پر توجہ دی جائے گی۔
مجوزہ اجلاس تینوں ممالک کے مذاکرات کاروں کے درمیان ہوگا۔ اسے پیوٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کی طے شدہ سربراہی ملاقات نہیں سمجھا جاسکتا۔
زیلنسکی نے بھی مذاکرات کی بحالی کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے اپنا مؤقف دہرایا کہ اتحادیوں کی جانب سے سلامتی کی مؤثر ضمانتیں ملنے کی صورت میں یوکرین موجودہ محاذ جنگ پر جنگ بندی قبول کرسکتا ہے۔ اس نوعیت کا انتظام لڑائی روک سکتا ہے، تاہم مقبوضہ علاقوں کی ملکیت سے متعلق تنازع اپنی جگہ برقرار رہے گا۔
پیوٹن سے وٹکوف کی یہ نویں ملاقات تھی۔ اس سے پہلے امریکی نمائندے نے اوسلو میں زیلنسکی، شمالی یورپ کے رہنماؤں اور یورپی و نیٹو نمائندوں سے بات چیت کی تھی۔
وٹکوف ممکنہ تصفیے سے متعلق تجاویز پر مشتمل دستاویزات بھی ساتھ لائے، جبکہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے فاصلاتی رابطے کے ذریعے تجاویز پیش کیں۔ تاہم کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا کہ یوکرین کی جانب سے پیش کردہ تجاویز روس کے لیے قابل قبول نہیں تھیں۔
یہ اختلاف واضح کرتا ہے کہ مذاکرات کی بحالی اور جنگ ختم کرنے کے سمجھوتے کے درمیان اب بھی خاصا فاصلہ موجود ہے۔ پیوٹن یوکرین کے دونیتسک خطے پر مکمل روسی کنٹرول، یوکرین کو نیٹو سے باہر رکھنے اور عارضی جنگ بندی کے بجائے جامع امن معاہدے کے مطالبات پر قائم ہیں۔
یوکرین کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ لڑائی رکنے کے بعد اسے دوبارہ حملے سے کیسے محفوظ رکھا جائے گا۔ دوسری جانب روس جنگ کے بعد قائم ہونے والے وسیع تر سلامتی انتظامات پر بھی بات کرنا چاہتا ہے۔
امریکا کی ثالثی میں آخری مذاکرات فروری میں ہوئے تھے، جس کے بعد امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کردی تھی۔
پیوٹن نے بدھ کی ملاقات میں ایران سے متعلق امریکی کوششوں میں تعاون کی پیشکش بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ تہران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ ممکن اور ضروری ہے۔ روسی صدر نے امریکی کسانوں کے لیے بڑی مقدار میں کھاد فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔
کریملن کے مطابق آئندہ ماہ چین میں پیوٹن، ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ممکنہ ملاقات پر بھی تبادلہ خیال ہوا، تاہم کسی حتمی تاریخ یا متفقہ پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ادھر امریکی عسکری تعاون سے متعلق غیر یقینی صورت حال واشنگٹن اور کیف کے تعلقات پر اثرانداز ہورہی ہے۔ زیلنسکی کے مطابق اوسلو میں بات چیت سے انٹیلی جنس کے تبادلے اور سیٹلائٹ سہولتوں سے متعلق خدشات دور کرنے میں مدد ملی۔
الگ بیان میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یوکرین کی اسٹارلنک تک رسائی کے فیصلے وائٹ ہاؤس کے بجائے اسپیس ایکس اور ایلون مسک کے اختیار میں ہیں۔ ان کے بیان سے سرکاری انٹیلی جنس تعاون اور ایک نجی کمپنی کے مواصلاتی نظام تک رسائی کے درمیان فرق بھی سامنے آیا ہے۔
مذاکرات بحال کرنے کی آمادگی سے سفارت کاری کا راستہ ضرور کھلا ہے، لیکن سابقہ کوششوں کی راہ میں حائل بنیادی تنازعات ابھی حل نہیں ہوئے۔





