لاہور: پنجاب اسمبلی کی دو قائمہ کمیٹیوں نے منگل کو بچوں سے بھیک منگوانے کی روک تھام اور عدالتی مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کم کرنے سے متعلق دو بلوں کی منظوری دے دی۔ مجوزہ قانون سازی میں بچوں کو بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرنے والے والدین اور سرپرستوں کے لیے قید کی سزا اور بعض قانونی تنازعات کو 30 روز کے اندر ثالثی کے ذریعے حل کرنے کا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
رکن صوبائی اسمبلی صفدر حسین ساہی کی زیرِ صدارت پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پنجاب ویگرنسی (ترمیمی) بل 2026 کی متفقہ منظوری دی، جبکہ رکن صوبائی اسمبلی محمد ارشد ملک کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی برائے قانون نے پنجاب متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر) بل 2026 کی منظوری دی۔
دونوں بلوں کا مقصد موجودہ قانونی نظام میں ترامیم کے ذریعے بچوں کے استحصال کی روک تھام کے لیے قانون کے نفاذ کو مؤثر بنانا اور بعض تنازعات کو روایتی عدالتی کارروائی کے بجائے باہمی اتفاق اور ثالثی سے حل کرنے کا طریقہ کار وضع کرنا ہے۔
بچوں سے بھیک منگوانے والے والدین کے لیے قید کی تجویز
پنجاب ویگرنسی آرڈیننس 1958 میں مجوزہ ترامیم کے تحت بچوں کے تحفظ کے لیے مقررہ عمر کی حد 14 سال سے بڑھا کر 16 سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایسے والدین اور سرپرست جو بچوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کریں، دوسروں کو اس مقصد کے لیے بچوں کو استعمال کرنے کی اجازت دیں یا غفلت کے باعث بچوں کا استحصال روکنے میں ناکام رہیں، انہیں تین ماہ سے تین سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مجوزہ بل کے تحت پنجاب کے محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال کے ڈائریکٹر جنرل کو کنٹرولر مقرر کیا جائے گا، جو بھیک مانگنے کے خلاف کارروائیوں میں مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری، بحالی کے پروگراموں کی نگرانی اور فلاحی مراکز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ذمہ دار ہوں گے۔
کنٹرولر کو حراست میں لیے گئے افراد کا ڈیٹا بیس تیار کرنے، معیاری طریقہ کار جاری کرنے اور متعلقہ سرکاری محکموں کے درمیان کارروائیوں کو مربوط بنانے کی ذمہ داری بھی سونپی جائے گی۔
مجوزہ قانون سازی کے ذریعے 2026 میں پہلے جاری کیے گئے ترمیمی آرڈیننس کو ختم کرکے اس کی دفعات کو صوبائی قانون کا حصہ بنایا جائے گا۔
پنجاب حکومت اس سے قبل بھی منظم گداگری کے خلاف اقدامات متعارف کرا چکی ہے، جن میں بچوں کا استحصال کرنے والے افراد اور گروہوں کے لیے سزائیں شامل ہیں۔
نئی ترامیم کے ذریعے 14 اور 15 سال کی عمر کے بچوں کو بھی قانونی تحفظ فراہم کرنے اور ان کے والدین یا سرپرستوں کی ذمہ داری متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
تاہم مجوزہ قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے غربت کا شکار خاندانوں کے ساتھ ممکنہ سلوک کے بارے میں سوالات بھی سامنے آتے ہیں۔
اگرچہ قانون سازی کا مقصد بچوں کو بھیک مانگنے کے لیے استعمال ہونے سے بچانا ہے، لیکن والدین کی غفلت سے متعلق شق ایسے خاندانوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے جو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
اس لیے مجوزہ ترامیم کی مؤثر عمل داری کا انحصار بحالی مراکز کی دستیابی، سماجی بہبود کی سہولتوں اور متاثرہ بچوں اور خاندانوں کی مدد کے لیے مالی وسائل پر بھی ہوگا۔
پنجاب میں تنازعات 30 روز میں ثالثی سے حل کرنے کی تجویز
ایک الگ پیش رفت میں پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون نے دیوانی، خاندانی، جائیداد، وراثت اور مالی معاملات سے متعلق مخصوص تنازعات کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے کے نظام کی منظوری دے دی۔
اجلاس میں پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون خالد محمود رانجھا، پنجاب اسمبلی کے حکام اور متعلقہ سرکاری محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
پنجاب متبادل تنازعات کے حل بل 2026 کے تحت ایسے معاملات، جو قانون کے مطابق ثالثی کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں، تربیت یافتہ ثالثوں کے سپرد کیے جا سکیں گے تاکہ فریقین روایتی عدالتی کارروائی مکمل کیے بغیر باہمی رضامندی سے تصفیہ کر سکیں۔
مجوزہ نظام کے تحت ثالثی کا عمل عمومی طور پر 30 روز کے اندر مکمل کیا جائے گا، تاہم ضرورت پڑنے پر اس کی مدت مجموعی طور پر 60 روز تک بڑھائی جا سکے گی۔
اگر فریقین کسی معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو اسے منظوری اور قانونی نفاذ کے لیے متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ثالثی کے ذریعے تصفیہ نہ ہونے کی صورت میں معاملہ دوبارہ معمول کے عدالتی نظام کے تحت آگے بڑھے گا۔
اس نظام میں بعض ایسے معمولی فوجداری مقدمات بھی شامل ہوں گے جن میں قانون کے مطابق فریقین باہمی رضامندی سے صلح کر سکتے ہیں۔
بل میں ثالثی کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کی ضمانت بھی دی گئی ہے، جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کارروائی میں حصہ لینے کی اجازت دینے کی تجویز شامل ہے۔
اس کے علاوہ خواتین سے متعلق تنازعات میں جہاں ممکن ہو، خواتین ثالثوں کی تقرری بھی تجویز کی گئی ہے۔
ثالثی کے نظام کی نگرانی کے لیے اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز
مجوزہ قانون کے تحت پنجاب متبادل تنازعات کے حل کی اتھارٹی قائم کی جائے گی، جس کی سربراہی ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کریں گے۔
یہ اتھارٹی ثالثی کی خدمات کو منظم کرنے، ثالثوں کی تربیت اور کارکردگی کی نگرانی کرنے اور قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔
یہ اقدام صوبے میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد کم کرنے اور شہریوں کے لیے قانونی چارہ جوئی میں درکار وقت اور اخراجات گھٹانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ثالثی کا نظام خصوصاً جائیداد، وراثت اور مالی تنازعات میں ایسے فریقین کو متبادل راستہ فراہم کر سکتا ہے جو باہمی اتفاق سے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم اس نظام کی کامیابی کا انحصار تربیت یافتہ ثالثوں کی دستیابی، فریقین کے حقوق کے تحفظ اور ایسے طریقہ کار پر ہوگا جو اس بات کو یقینی بنائے کہ تصفیے کسی دباؤ یا جبر کے بغیر طے پائیں۔
مجوزہ قانون میں معاہدوں کی منظوری کے حوالے سے عدالتوں کا کردار بھی برقرار رکھا گیا ہے تاکہ طے پانے والے تصفیوں کو قانونی حیثیت حاصل ہو سکے۔
دونوں بلوں کی منظوری کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کی جانب سے دونوں بلوں کی منظوری صوبائی قانون سازی کے عمل کا ایک مرحلہ ہے۔ صرف کمیٹیوں کی منظوری سے یہ بل باقاعدہ قانون نہیں بن جاتے۔
قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے دونوں بلوں کو پنجاب اسمبلی کے متعلقہ قانون سازی کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔
اگر ان بلوں کو قانون کی شکل دے دی جاتی ہے تو گداگری سے متعلق ترامیم کے ذریعے بچوں کے تحفظ کا دائرہ وسیع ہوگا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب متبادل تنازعات کے حل کا قانون مخصوص مقدمات کو ثالثی کے ذریعے نمٹانے کے لیے ایک نظام فراہم کرے گا۔
اگرچہ دونوں بل مختلف شعبوں سے متعلق ہیں، تاہم ان کے نفاذ سے صوبائی محکموں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگا۔
ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری، مالی وسائل کی فراہمی، عملے کی تربیت اور مؤثر نگرانی پر ہوگا تاکہ بچوں کے تحفظ اور تنازعات کے حل کے مجوزہ نظام اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔





