اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو کہا کہ حکومت صوبوں سے مشاورت کے بعد گندم کی قیمت کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ قیمت بوائی شروع ہونے سے پہلے طے ہونی چاہیے۔
قومی زراعت و غذائی تحفظ کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ فیصلے میں کسانوں کو مناسب معاوضہ دینے اور صارفین کے لیے گندم قابلِ برداشت قیمت پر رکھنے، دونوں مقاصد کو مدنظر رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی ضروریات کے لیے گندم کے کافی ذخائر موجود ہیں اور ذخیرہ اندوزوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ اجلاس میں نئی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے غذائی سال 2026–27 کے لیے گندم کی درآمدات کی نگران کمیٹی کے ساتویں اجلاس کی صدارت کی۔
سرکاری بیان کے مطابق ڈار نے کہا کہ صوبوں کی طلب کے مطابق کافی رسد کا انتظام کر لیا گیا ہے۔ پہلی کھیپ اکتوبر کے اختتام سے پہلے کراچی پہنچنے کی توقع ہے۔
انہوں نے ہدایت دی کہ درآمدی گندم اور صوبوں کو پہلے سے مختص پاسکو کے ذخائر قیمتوں میں استحکام اور صارفین کو سہولت دینے کے لیے استعمال کیے جائیں۔
قیمت کا فیصلہ ایسے وقت زیرِ التوا ہے جب کسان ربیع کی فصل کی تیاری کر رہے ہیں۔ گندم کی کاشت اور پیداوار کے اہداف بھی اشاریاتی قیمت کے اعلان تک مؤخر ہیں۔
ارسا نے رواں سیزن میں پنجاب اور سندھ کے لیے پانی کی 22 فیصد کمی کا تخمینہ دیا ہے، جس سے فصل کی منصوبہ بندی کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
کونسل کے اجلاس میں شہباز شریف نے سستی کھاد، معیاری بیج، جدید مشینری اور پانی کے بہتر استعمال کو حکومتی ترجیحات قرار دیا۔
انہوں نے صوبوں کو زرعی ترقی کے لیے وفاقی تعاون کی یقین دہانی کرائی اور خصوصاً چھوٹے اور درمیانے کسانوں کو فصلوں کی مناسب قیمت دینے پر زور دیا۔





