اسلام آباد: پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے ’فیاض‘ میزائل کا پہلا کامیاب پرواز تجربہ کر لیا ہے، جسے فضائی ہتھیاروں کی ملکی سطح پر تیاری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے منگل کو اس کامیابی کا اعلان کیا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق میزائل میں ٹرمینل گائیڈنس سسٹم نصب کیا گیا ہے، جو طویل فاصلے پر فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
فوج کے مطابق اس پیش رفت سے پاک فضائیہ کی عملی صلاحیتوں اور دفاعی استعداد میں اضافہ ہوگا۔
میزائل کے تجربے کے موقع پر مسلح افواج کے اعلیٰ افسران کے علاوہ اس کی تیاری میں حصہ لینے والے سائنس دان اور انجینئرز بھی موجود تھے۔
صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مسلح افواج کے سربراہان نے میزائل تیار کرنے والی ٹیم کو کامیابی پر مبارک باد دی۔
فیاض میزائل کی تیاری اور صلاحیتیں
فیاض میزائل پروگرام پاکستان میں دفاعی سازوسامان کی مقامی سطح پر تیاری اور ایرو اسپیس صنعت کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ میزائل نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن (نیسکام) کے تحت تیار کیا گیا ہے، جبکہ اس کی مختلف اقسام 2023 میں استنبول میں ہونے والی بین الاقوامی دفاعی صنعت کی نمائش میں بھی پیش کی گئی تھیں۔
اخبار ڈان کی رپورٹ میں شائع ہونے والی دفاعی صنعت کی معلومات کے مطابق فیاض میزائل سیریز کی متوقع مار کرنے کی صلاحیت 100 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔
تاہم آئی ایس پی آر نے منگل کو تجربہ کیے گئے میزائل کی حدِ مار کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔
رپورٹس کے مطابق میزائل کو پاکستان اور چین کے مشترکہ طور پر تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے سے فائر کیا گیا، تاہم فوج کے بیان میں میزائل داغنے کے لیے استعمال ہونے والے طیارے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اطلاعات کے مطابق زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے ’فیاض 2‘ میزائل پر بھی کام جاری ہے۔
میزائل کی پیداوار کے شیڈول، عملی تعیناتی اور پاک فضائیہ میں شمولیت سے متعلق تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔
پاکستان کی غیر ملکی ہتھیاروں پر انحصار کم کرنے کی کوششیں
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان دفاعی سازوسامان کے لیے غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاک فضائیہ اس وقت ایسے لڑاکا طیارے استعمال کر رہی ہے جو چین اور امریکا سمیت مختلف ممالک سے حاصل کیے گئے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہیں۔
مقامی سطح پر میزائلوں کی تیاری سے پاکستان کو دفاعی آلات کی دیکھ بھال، جدید بنانے اور خریداری کے معاملات پر زیادہ اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ملکی پیداوار غیر ملکی دفاعی سازوسامان کی درآمد پر عائد ممکنہ پابندیوں کے اثرات کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم کسی میزائل کا کامیاب پرواز تجربہ لازمی طور پر اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ عملی استعمال کے لیے تیار ہو چکا ہے۔
پاک فضائیہ میں باقاعدہ شمولیت سے قبل مزید جانچ، پیداوار کے انتظامات اور لڑاکا طیاروں کے ساتھ میزائل کے نظام کو مربوط کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
فیاض پروگرام پاکستان کی ایرو اسپیس صنعت میں سرمایہ کاری کی بھی عکاسی کرتا ہے، جس میں طیارہ سازی، انجینئرنگ اور دفاعی تحقیق سے وابستہ ادارے حصہ لے رہے ہیں۔
علاقائی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں میں جدت
فیاض میزائل کا تجربہ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
اس تصادم کے دوران دونوں ممالک نے میزائلوں، ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا تھا۔
اس تنازع نے علاقائی سلامتی میں فضائی دفاعی نظام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی ہتھیاروں کی اہمیت کو نمایاں کیا۔
پاکستان اپنے دفاعی پروگراموں کے تحت مقامی طور پر تیار کردہ میزائل نظاموں کے تجربات جاری رکھے ہوئے ہے۔
اکتوبر 2026 میں فوج نے فتح 2 بیلسٹک میزائل اور زمین سے داغے جانے والے فتح 4 کروز میزائل کی زیادہ فاصلے تک مار کرنے والی اقسام کے تجربات کا اعلان کیا تھا۔
فیاض میزائل کا تجربہ ان دفاعی پیش رفتوں میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے پروگرام کا اضافہ ہے، اگرچہ یہ تمام نظام مختلف عسکری مقاصد کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
فیاض میزائل کا تجربہ پاکستان کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے؟
اس میزائل کی تیاری سے پاکستان کو مقامی دفاعی صنعت کو وسعت دینے اور درآمدی سازوسامان پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ایرو اسپیس شعبے سے وابستہ تحقیقی اداروں، انجینئرز اور دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم اس منصوبے کے معاشی اور عملی اثرات کا انحصار میزائل کی پیداواری صلاحیت، مزید تجربات کے نتائج اور دفاعی خریداری سے متعلق فیصلوں پر ہوگا۔
حکومت نے اب تک اس منصوبے کی لاگت یا میزائل کی پاک فضائیہ میں باقاعدہ شمولیت کے وقت کا اعلان نہیں کیا۔
فی الحال کامیاب پرواز تجربہ میزائل کی تیاری میں ایک اہم مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم فیاض میزائل پاک فضائیہ کی دفاعی صلاحیتوں میں کس حد تک تبدیلی لائے گا، اس کا انحصار مزید تجربات اور عملی تعیناتی پر ہوگا۔





