موجودہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی، جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔ اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
تاہم اسرائیل فلسطین تنازع کی تاریخ 7 اکتوبر سے کہیں پرانی ہے۔ اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں غزہ اور مغربی کنارے پر قبضہ کیا۔ 2005 میں اسرائیل نے غزہ سے اپنے آبادکاروں اور مستقل فوجی موجودگی کو واپس بلا لیا، تاہم غزہ کی فضائی حدود، سمندری رسائی اور لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت پر نمایاں کنٹرول برقرار رہا۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کا سلسلہ جاری رہا۔
جولائی 2024 میں عالمی عدالت انصاف نے اپنی مشاورتی رائے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی آبادکاری کی پالیسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
تنازع کا سیاسی اور علاقائی پہلو اس وقت مزید نمایاں ہوا جب اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کی حمایت کی۔ ایسے بیانات نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ آیا غزہ کی جنگ صرف اسرائیلی سلامتی اور حماس کے خاتمے تک محدود ہے یا اس کے ساتھ زمین، آبادی اور مستقبل کے سیاسی کنٹرول کے معاملات بھی جڑے ہوئے ہیں۔
اس تنازع میں طاقت کا واضح عدم توازن بھی موجود ہے۔ حماس ایک مسلح غیر ریاستی تنظیم ہے، جبکہ اسرائیل ایک ریاست ہے جس کے پاس خطے کی طاقتور ترین افواج میں سے ایک، فلسطینی علاقوں پر وسیع عملی کنٹرول اور امریکا کی مضبوط فوجی و سفارتی حمایت موجود ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حماس اب بھی اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور 7 اکتوبر جیسے حملے کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے فوجی کارروائی ضروری ہے۔ تاہم فلسطینیوں کی بے دخلی سے متعلق اسرائیلی وزرا کے بیانات، مقبوضہ علاقوں کی قانونی حیثیت اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کے سوالات اس تنازع کو محض سلامتی یا مذہب کے تناظر میں دیکھنے کو ناکافی بناتے ہیں۔
اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں ہلاکتوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے بعد بھی ایک ہزار سے زائد فلسطینی جان سے جا چکے ہیں۔
غزہ کا بنیادی سوال آج بھی وہی ہے: فلسطینی علاقوں پر اختیار کس کا ہوگا، بے گھر ہونے والے افراد کا مستقبل کیا ہوگا اور کیا فلسطینیوں کو اپنی ریاست اور سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حقیقی حق مل سکے گا؟
اسی لیے غزہ کو محض مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مذہبی جنگ قرار دینا اس تنازع کے بنیادی سیاسی حقائق کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔ مذہب دونوں جانب شناخت کا حصہ ضرور ہے، لیکن سرحدوں، زمین، آبادکاری، نقل و حرکت اور سیاسی حقوق کا فیصلہ مذہب نہیں بلکہ طاقت اور سیاست کرتی ہے۔
غزہ کا تنازع بنیادی طور پر اسی سوال کے گرد گھومتا ہے کہ کیا کئی دہائیوں سے قبضے، بے دخلی اور بیرونی کنٹرول کا سامنا کرنے والے فلسطینی اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں گے۔





