اسلام آباد: پاور ڈویژن اور صنعتی نمائندوں نے بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے فرنس آئل اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی کم یا ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بجلی کمپنیوں نے صارفین سے 32 ارب 76 کروڑ روپے کی اضافی وصولی کی اجازت مانگی ہے۔
جمعرات کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، نیپرا، نے ستمبر میں استعمال ہونے والی بجلی کے لیے 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ اضافی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی، سی پی پی اے، نے یہ رقم نومبر کے بلوں میں وصول کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس کی منظوری کا فیصلہ نیپرا نے کرنا ہے۔
فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخوں میں شامل ایندھن کی تخمینی لاگت اور متعلقہ مہینے کی اصل لاگت کا فرق بلوں میں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔
سی پی پی اے کے نمائندے ریحان اختر نے بتایا کہ ستمبر میں ایندھن کی اصل لاگت 10.022 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ مقررہ حوالہ جاتی لاگت 7 روپے 46 پیسے تھی۔ انہوں نے اس فرق کی بنیادی وجوہ میں بجلی کی پیداوار کے ذرائع میں تبدیلی اور متبادل ایندھن کی زیادہ قیمتیں بتائیں۔
ریحان اختر نے کہا کہ اکتوبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کے مقابلے میں اضافہ ایک روپے 45 پیسے فی یونٹ سے زیادہ نہیں ہوگا، کیونکہ موجودہ مثبت ایڈجسٹمنٹ ختم ہونے کے بعد مجوزہ 2 روپے 56 پیسے کی ایڈجسٹمنٹ اس کی جگہ لے گی۔
صنعتی نمائندوں نے کہا کہ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے فرنس آئل پر تقریباً 76 ہزار روپے فی ٹن اور ڈیزل پر 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جارہی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ لیوی ختم کرنے سے تقریباً 62 روپے فی یونٹ کی پیداواری لاگت کم ہو کر 44 سے 50 روپے تک آسکتی ہے۔
پاور ڈویژن کے ماتحت اداروں کے حکام نے بتایا کہ ستمبر میں فرنس آئل اور ڈیزل سے مجموعی طور پر 3.6 فیصد بجلی پیدا کی گئی، کیونکہ مائع قدرتی گیس، ایل این جی، اور دیگر سستے ذرائع دستیاب نہیں تھے۔
پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر نوید قیصر نے اتفاق کیا کہ ان ایندھنوں پر لیوی سے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاور ڈویژن متعلقہ حکومتی فورمز پر لیوی ختم یا کم کرنے کا معاملہ اٹھاتا رہا ہے۔
نوید قیصر نے کہا کہ بجلی کے نرخ کم کرنا، خصوصاً صنعتوں کے لیے، حکومت کی ترجیح ہے۔ ان کے مطابق سابقہ کوششوں سے عام صارفین کے نرخ تقریباً 10 روپے اور صنعتی صارفین کے نرخ 18 روپے فی یونٹ تک کم ہوئے ہیں۔
صنعتی نمائندوں نے اضافی بجلی کے استعمال سے متعلق سرپلس انکریمنٹل پیکیج معطل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے جاری رہنے سے قومی گرڈ کے صارفین پر تقریباً 11 روپے فی یونٹ اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
اعدادوشمار اور کوئلے کی خریداری پر سوالات
نیپرا حکام اور صنعتی نمائندوں نے سی پی پی اے کے پیداواری اعدادوشمار میں تضادات پر سوالات اٹھائے اور زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایل این جی کی قیمتوں سے متعلق سابقہ 16 ارب روپے کی ایڈجسٹمنٹ پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ بروقت معلومات فراہم کرنے سے مجوزہ اضافی وصولی کم ہوسکتی تھی۔
صنعتی نمائندوں نے الگ سے الزام لگایا کہ پورٹ قاسم پاور پلانٹ منسلک اداروں کے ذریعے دیگر بجلی گھروں کے مقابلے میں مہنگا کوئلہ خرید رہا ہے۔ انہوں نے قومی احتساب بیورو سمیت متعلقہ اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
نیپرا نے کہا کہ صرف جائز کوئلہ لاگت کی اجازت دی جائے گی اور مسترد کردہ رقم بجلی پیدا کرنے والی کمپنی کو خود برداشت کرنا ہوگی۔
حکومتی اداروں نے بتایا کہ ستمبر میں بجلی کی مجموعی طلب 6.5 فیصد اور صنعتی کھپت 6.7 فیصد بڑھی۔ صنعتی نمائندوں نے کہا کہ صنعتی کھپت میں اضافہ انکریمنٹل پیکیج کے بجائے کاروباری اداروں کی اپنی بجلی کی پیداوار سے قومی گرڈ پر منتقلی کا نتیجہ تھا۔
گزشتہ سال ستمبر کے مقابلے میں ایندھن کی اوسط لاگت تقریباً 37.5 فیصد بڑھی۔ علاقائی تنازع کے دوران ایل این جی کی کم دستیابی کے باعث مہنگے متبادل ایندھن اور درآمدی کوئلے پر انحصار بڑھا۔
سی پی پی اے کے اعدادوشمار کے مطابق ستمبر میں ڈیزل سے 213 گیگاواٹ آور بجلی پیدا کی گئی، جو گرڈ کی مجموعی سپلائی کا تقریباً 1.6 فیصد تھی۔ اس کی پیداواری لاگت 62 روپے 14 پیسے فی یونٹ رہی۔ اگست میں ڈیزل سے 80 گیگاواٹ آور بجلی 54 روپے فی یونٹ کی لاگت پر پیدا ہوئی تھی۔
فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار اگست کے 321 گیگاواٹ آور سے کم ہو کر ستمبر میں 263 گیگاواٹ آور رہی، جبکہ لاگت تقریباً 46 روپے سے گھٹ کر 44 روپے 86 پیسے فی یونٹ ہوگئی۔ مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً دو فیصد رہا۔





