اسلام آباد: وفاقی حکومت نے جمعرات، 29 اکتوبر کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 400 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ گئی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 85 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 376 روپے 6 پیسے سے بڑھ کر 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 75 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 398 روپے 7 پیسے سے بڑھ کر 399 روپے 82 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا روزانہ نظام
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافہ حکومت کے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت کیا گیا ہے۔ اس نظام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کو مقامی قیمتوں میں زیادہ تیزی سے منتقل کرنا ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) عالمی منڈی میں گزشتہ سات روز کی قیمتوں کی متحرک اوسط کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا حساب لگاتی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق تازہ ردوبدل کی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی بنیادی قیمتوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں تبدیلی ہے۔
ایندھن مہنگا ہونے سے عوام پر مالی دباؤ
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافے سے گاڑیوں کے مالکان، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری اداروں کے ایندھن کے اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت پاکستان کے ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس میں اضافہ مال برداری کے کرایوں، پیداواری لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں پہلے ہی مہنگائی کا سامنا کرنے والے صارفین پر مزید مالی دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔





