اسلام آباد: پاکستان اور ملائیشیا نے دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کی چوتھی مشترکہ انسداد دہشت گردی فوجی مشق ’’ہریماؤ مارخور فور‘‘ جمعرات کو نوشہرہ کے علاقے پبی میں واقع نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر (این سی ٹی سی) میں اختتام پذیر ہوئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دو ہفتوں پر مشتمل اس مشترکہ فوجی مشق میں پاکستان اور ملائیشیا کی افواج کے اہلکاروں نے شرکت کی۔ مشق کا مقصد انسداد دہشت گردی کے تجربات کا تبادلہ، آپریشنل طریقہ کار کو بہتر بنانا اور مشترکہ تربیت کے ذریعے جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا۔
مشق کے دوران انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے متعلق عملی تربیت، عسکری حکمت عملی میں بہتری، آپریشنل تجربات کے تبادلے اور دونوں افواج کے مؤثر طریقہ کار سے استفادہ کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مشق دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ فوجی تعلقات اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
مشترکہ فوجی مشق کے اختتام کے ساتھ ہی جمعرات کو ملائیشیا کی وزارت دفاع میں پاکستان اور ملائیشیا کی مشترکہ کمیٹی برائے دفاعی تعاون (جے سی ڈی سی) کا 16واں اجلاس بھی منعقد ہوا۔
اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد علی نے کی، جبکہ ملائیشیا کے وفد کی سربراہی ڈپٹی سیکریٹری جنرل برائے پالیسی محمد یانی بن داؤد نے کی۔
اجلاس کے دوران دونوں وفود نے 2025 میں ہونے والے مشترکہ دفاعی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور دوطرفہ دفاعی و سیکیورٹی تعاون سے متعلق باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں ممالک نے دفاعی تعلقات میں حالیہ پیش رفت کو سراہتے ہوئے عسکری روابط اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات 1957 سے قائم ہیں، جب ملائیشیا نے آزادی حاصل کی تھی۔ پاکستان ملائیشیا کو تسلیم کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل تھا اور اس کے آئین کی تیاری میں بھی معاونت فراہم کی تھی۔
تجارت، سرمایہ کاری اور سفارتی روابط کے ساتھ دفاعی تعاون بھی دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔
سال 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ملائیشیا کے دوران دونوں ممالک نے دفاع، تجارت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ اس موقع پر ملائیشیا نے پاکستان سے 20 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کا گوشت درآمد کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔
دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو 2007 میں طے پانے والے ملائیشیا پاکستان قریبی اقتصادی شراکت داری معاہدے کے تحت بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ تجارت، سرمایہ کاری اور خدمات کے مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک فراہم کرتا ہے۔





