بنکاک: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان رواں مالی سال میں نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کے پانچ یا چھ معاملات کے ذریعے ایک ارب ڈالر سے زیادہ حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
پیر کو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تقریباً ایک درجن اداروں سے متعلق معاملات زیرِ عمل ہیں۔ ان میں سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیاں اور ہوائی اڈوں کے آپریشنز کی آؤٹ سورسنگ شامل ہے۔
اورنگزیب نے کہا کہ انہیں رواں مالی سال میں ان میں سے پانچ یا چھ معاملات مکمل ہونے کی توقع ہے۔
یہ پروگرام گزشتہ سال پی آئی اے کی نجکاری کے بعد آگے بڑھایا جارہا ہے۔ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کا مالی بوجھ کم کرنا پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحاتی اہداف کا اہم حصہ ہے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ نجی شعبہ معیشت کی قیادت کرے، جبکہ حکومت کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔
انہوں نے تیل کی بلند قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی طویل جنگ کے باوجود رواں مالی سال میں معاشی نمو چار فیصد سے زیادہ رہنے کی توقع بھی ظاہر کی۔
اورنگزیب کے مطابق پاکستان نے مناسب مقدار میں ایندھن حاصل کرکے قلت سے بچاؤ یقینی بنایا، جبکہ زراعت سمیت اہم شعبے برقرار ہیں۔ تاہم توانائی کی قیمتوں کے اشیا کی قیمتوں پر اثرات کے باعث مہنگائی کی نگرانی کی جارہی ہے۔
خلیجی توانائی، ترسیلاتِ زر اور مالی معاونت پر انحصار پاکستان کو علاقائی بحران کے اثرات سے دوچار رکھتا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ 10 ارب ڈالر کی مجوزہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت پر بات چیت جاری ہے، تاہم انہوں نے تکمیل کی تاریخ نہیں بتائی۔
انہوں نے کہا کہ سہولت ملنے سے مدد ہوگی، لیکن نہ ملنے سے پاکستان کی مالی منڈیوں تک رسائی متاثر نہیں ہوگی۔ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن سے بھی الگ مذاکرات جاری ہیں۔
گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف سے عملے کی سطح پر معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد تقریباً 1.21 ارب ڈالر دستیاب ہوسکتے ہیں۔





