واشنگٹن: پاکستان نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہونے والے مباحثے کے دوران سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی انفراسٹرکچر پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور اپنے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا۔
سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا اور یمن کے تنازعے کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے اسلام آباد کی حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور سیاسی حل کی جانب پیش رفت کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کوششوں کی بھی حمایت کی۔
پاکستان کا یہ مؤقف جولائی میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد یمن میں کشیدگی میں اضافے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب کے بنیادی ڈھانچے کو متعدد حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ بھی شامل ہے۔
یمن میں 2015 سے سعودی قیادت میں قائم اتحاد اور حوثیوں کے درمیان جاری تنازعے کے باعث ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ انسانی امداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
سلامتی کونسل کے اسی اجلاس میں پاکستان نے غزہ اور مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
سفیر عثمان جدون نے اسرائیلی بستیوں کی توسیع، فلسطینی زمینوں پر قبضے، عمارتوں کی مسماری اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدامات مستقبل کی فلسطینی ریاست کی علاقائی وحدت کو متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے خصوصی طور پر اسرائیل کے ای ون (E1) آبادکاری منصوبے کا حوالہ دیا، جس کے نتیجے میں مشرقی یروشلم کے مغربی کنارے سے الگ ہونے اور فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی تسلسل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستان نے اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد کو روکنے کے ساتھ فلسطینی آبادی کے خلاف خلاف ورزیوں پر جوابدہی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
عثمان جدون نے کہا کہ دو ریاستی حل کے لیے بین الاقوامی حمایت کے ساتھ فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی وحدت کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803، غزہ تنازعے کے خاتمے کے جامع منصوبے اور نیویارک اعلامیے کو سیاسی حل کی جانب پیش رفت کے لیے اہم فریم ورک قرار دیا۔
پاکستان نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی مداخلت کی بھی مذمت کی اور یروشلم کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عثمان جدون نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور انسانی امداد کی فراہمی پر عائد پابندیوں پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ موسم سرما کی آمد سے بے گھر فلسطینی خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو مناسب رہائش اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
پاکستان نے جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور بحالی و تعمیر نو کا عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسلام آباد نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (اونروا) کی حمایت جاری رکھنے اور فلسطینی اتھارٹی کے روکے گئے محصولات جاری کرنے پر بھی زور دیا تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکے۔
عثمان جدون نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور غزہ کو مقبوضہ مغربی کنارے سے الگ کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غزہ، مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم ایک ہی جغرافیائی اکائی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سیاسی عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
سلامتی کونسل کے دیگر ارکان نے بھی اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور انسانی صورتحال پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔
فرانس کے سفیر جیروم بونافونٹ نے خبردار کیا کہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع، آبادکاروں کا تشدد اور فلسطینی اتھارٹی پر مالی پابندیاں خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہی ہیں۔
برطانیہ کی سفیر سارہ میکنٹوش نے ای ون منصوبے کو روکنے اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس پر عمل درآمد کا انحصار حماس کے ہتھیار ڈالنے پر ہے۔
فلسطین کے نائب مستقل مبصر ماجد بامیہ نے جنگ بندی کے باوجود فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ غزہ اور مغربی کنارے کا انتظام فلسطینی اتھارٹی کے تحت یکجا کیا جائے۔
مشرق وسطیٰ کے امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے قائم مقام خصوصی رابطہ کار رمیز الاکبروف نے خبردار کیا کہ غزہ میں جنگ بندی کو اب بھی خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے تقریباً ایک ہزار پانچ سو فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ان کے مطابق تقریباً نو لاکھ پچاس ہزار افراد ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں سیلاب کا خطرہ موجود ہے، جبکہ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والی چار ہزار سے زائد عمارتوں کے منہدم ہونے کا خدشہ ہے۔
الاکبروف نے غزہ امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا، جس میں اسرائیلی افواج کا انخلا، مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا اور عبوری انتظامی نظام کے قیام کے اقدامات شامل ہیں۔
پاکستان نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ خطے کے تنازعات کے حل اور پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی روابط، مذاکرات اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔





