برلن: جرمنی میں ہفتہ، 31 اکتوبر کو جنریشن زی کی قیادت میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کی تیاریاں جاری ہیں، جن میں ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔
نوجوان بہتر تعلیمی سہولیات، زندگی گزارنے کے اخراجات میں کمی اور حکومتی جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ مظاہرے نوجوانوں کی تنظیم جنریشن زی ریگلٹ کے زیرِ اہتمام برلن، فرینکفرٹ اور میونخ سمیت 34 شہروں میں منعقد کیے جائیں گے۔
جرمنی میں احتجاج کی یہ لہر سربیا اور فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے۔
مہنگائی اور تعلیمی مسائل کے خلاف نوجوان متحرک
منتظمین کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی، تعلیم میں ناکافی سرمایہ کاری اور لازمی فوجی خدمات کی تجاویز نے نوجوانوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب جرمنی کمزور معاشی ترقی، عوامی خدمات پر بڑھتے دباؤ اور معمر آبادی میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
میونخ میں احتجاج کے ایک 18 سالہ منتظم نے چانسلر فریڈرک مرز کی حکومت پر نوجوانوں کے مسائل نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔
یونیورسٹی طلبہ نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی خستہ حالی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے طالب علم شان بیکر نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ یونیورسٹی کی عمارتوں کی خراب حالت کے خلاف احتجاج میں شریک ہوں گے۔
حکام کا ممکنہ بدامنی سے متعلق انتباہ
جرمن حکام کو توقع ہے کہ ہالووین کے موقع پر ہونے والے مظاہرے مجموعی طور پر پُرامن رہیں گے، تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انتہاپسند گروہ ان اجتماعات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
وفاقی وزارتِ داخلہ کے مطابق انتہائی بائیں بازو کے بعض نیٹ ورکس اور غیر ملکی انتہاپسند تحریکوں سے منسلک گروہ بھی مظاہرین کو متحرک کرنے کی کوششوں میں شامل رہے ہیں۔
ریاست ہیسے کے وزیرِ داخلہ رومن پوسیک نے فرانس میں مظاہروں کے دوران پیش آنے والے پُرتشدد واقعات جیسے حالات پیدا ہونے سے خبردار کیا۔
برلن کے معروف تجارتی علاقے کرفرسٹنڈام میں کئی کاروباری اداروں نے احتیاطاً دکانوں کے شیشوں کو لکڑی کے تختوں سے ڈھانپ دیا، جبکہ بعض نے جلد کاروبار بند کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی۔
نوجوانوں کی تحریک کی قیادت پر سوالات
نوجوانوں کی نمائندگی کے دعوے کے باوجود تحریک میں سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کی شمولیت کے باعث اس کی قیادت سے متعلق سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
جرمنی کی قومی طلبہ تنظیم بی ایس کے نے جنریشن زی ریگلٹ سے لاتعلقی ظاہر کی ہے، تاہم نوجوانوں کے مطالبات کو جائز قرار دیا ہے۔
تنظیم نے 20 نومبر کو الگ احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
جرمنی میں یہ احتجاج یورپ میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جہاں نئی نسل معاشی مشکلات، تعلیم اور سیاسی نمائندگی جیسے مسائل پر آواز اٹھا رہی ہے۔
منتظمین کے مطابق مظاہروں میں ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے، تاہم شرکا کی حتمی تعداد کی تصدیق ابھی باقی ہے۔





