واشنگٹن: ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے بدھ کو یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کردیا۔ یہ بیان یوکرینی فوج کے زیر استعمال سیٹلائٹ سروسز میں خلل اور امریکی حمایت پر بڑھتے اختلافات کے دوران سامنے آیا۔
مسک نے ایکس پر یہ مطالبہ اس وقت کیا جب زیلنسکی نے ان سے اسٹارلنک سروس بحال کرنے کو کہا۔ کیف کا کہنا ہے کہ سروس کی رفتار کم ہونے سے فوجی مواصلات متاثر ہوئے ہیں۔
مسک نے کہا کہ کسی بھی تعطل کی ذمہ داری امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے میدان جنگ میں مواصلات کے لیے استعمال ہونے والے اسٹارشیلڈ نظام اور شہری استعمال کی اسٹارلنک سروس میں فرق واضح کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسٹارشیلڈ امریکی حکومت کے کنٹرول میں ہے، جبکہ یوکرین اسٹارلنک کو بھی استعمال کرتا ہے لیکن اسے حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ دونوں نظام مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے تیار کیے ہیں۔
یوکرین نے رواں ہفتے الزام لگایا تھا کہ واشنگٹن روسی میزائل حملوں کی پیشگی اطلاع نہ دے کر اور سیٹلائٹ سروسز میں تبدیلیوں سے اس کا فوجی ردعمل محدود کرکے روس کی مدد کررہا ہے۔
کیف کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ امریکا نے روسی میزائلوں کے بارے میں انٹیلی جنس کی فراہمی روکنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
امریکا کے روس سے ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے پر بھی تعلقات کشیدہ ہیں۔ معاہدے کے بعد زیلنسکی سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں دھوکا دیے جانے کا احساس ہوا ہے، تو انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔
ٹرمپ نے ہفتے کو اس تنقید کے جواب میں کہا کہ یوکرین کو ایسا نیا صدر منتخب کرنا چاہیے جو معاہدہ کرسکے۔
امریکا میں آئندہ ماہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اہم مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ ٹرمپ نے قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں کو قرار دیا ہے۔





