اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کسی خاتون کا شادی سے انکار تشدد کا جواز نہیں بن سکتا اور نہ اس کے قتل کی سنگینی کم کرتا ہے۔ عدالت نے ایک مجرم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی۔
منگل کو رپورٹ ہونے والا فیصلہ محمد کامران کے مقدمے سے متعلق ہے، جسے میمونہ شاہین کے قتل پر سزا دی گئی تھی۔ فیصلے میں بیان کردہ استغاثہ کے مطابق کامران نے خاتون اور ان کے خاندان کی جانب سے شادی کی پیشکش مسترد ہونے کے بعد انہیں ان کے گھر میں قتل کیا۔
نو صفحات کا فیصلہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا۔ ڈان کے مطابق جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی بینچ میں شامل تھے۔
عدالت نے کہا کہ شادی دونوں فریقوں کی آزادانہ رضامندی سے قائم ہونے والا رشتہ ہے۔ خاتون کے انکار کو اشتعال یا سزا میں کمی کی بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بینچ نے کہا کہ ایسی دلیل قبول کرنے کا مطلب عورت کی مرضی کو مرد کی خواہش کے تابع تسلیم کرنا ہوگا۔ انا کو ٹھیس پہنچنا، غصہ یا نام نہاد غیرت تشدد کا عذر نہیں بن سکتے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق فیصلے میں خواتین کو ملکیت سمجھنے اور ان کے انکار کو توہین قرار دینے والی پدرشاہی سوچ پر تنقید کی گئی۔ عدالت نے اس سوچ کو تعاقب، تیزاب گردی اور خواتین کے قتل جیسے جرائم سے جوڑا۔
کامران نے طویل عرصہ قید میں گزارنے کی بنیاد پر سزا میں کمی مانگی تھی۔ اے پی پی کے مطابق عدالت نے کہا کہ صرف قید کی مدت سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کے لیے کافی نہیں۔
عدالت نے کہا کہ اسلام میں نکاح کے لیے خاتون کی آزادانہ رضامندی ضروری ہے۔ اس نے خواتین کے خلاف امتیاز کے خاتمے کے عالمی کنونشن کے تحت پاکستان کی ذمہ داریوں کا بھی حوالہ دیا۔
یہ مشاہدات قتل کے ایک مقدمے کی نظرثانی درخواست کا فیصلہ کرتے ہوئے دیے گئے۔





