لاہور: پاکستان کے نوجوان بلے باز معاذ صداقت نے سری لنکا کے خلاف شاندار کارکردگی کے بعد مردوں کی تازہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل بیٹنگ رینکنگ میں 187 درجے ترقی کرتے ہوئے 45ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ وہ نئی رینکنگ میں سب سے زیادہ ترقی کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔
بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے معاذ صداقت نے سری لنکا کے خلاف سیریز کے ابتدائی دو میچوں میں بالترتیب 50 اور 96 رنز بنائے، جس کے بعد ان کے ریٹنگ پوائنٹس کی تعداد 533 ہو گئی۔
ان کی حالیہ کارکردگی نے انہیں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں پاکستان کے نمایاں بلے بازوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے، جو بین الاقوامی سطح پر ان کی بہتر ہوتی ہوئی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے صاحبزادہ فرحان سری لنکا کے خلاف ریکارڈ ساز کارکردگی کے بعد ٹی ٹوئنٹی بیٹنگ رینکنگ میں تیسری پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔
فرحان نے تین میچوں کی سیریز میں مجموعی طور پر 238 رنز بنائے، جس کے بعد ان کے ریٹنگ پوائنٹس 883 تک پہنچ گئے۔
وہ بھارت کے ایشان کشن اور ابھیشیک شرما سے پیچھے ہیں، جو بالترتیب 904 اور 891 پوائنٹس کے ساتھ پہلی اور دوسری پوزیشن پر موجود ہیں۔
پاکستانی اوپنر نے تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا سابقہ ریکارڈ بھی توڑ دیا۔
اس سے قبل یہ ریکارڈ بھارت کے ابھیشیک شرما کے پاس تھا، جنہوں نے رواں سال افغانستان کے خلاف تین میچوں کی سیریز میں 229 رنز بنائے تھے۔
بھارت کے شریاس ایئر نے ویسٹ انڈیز کے خلاف جاری سیریز کے پہلے میچ میں اپنی پہلی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سنچری بنانے کے بعد تین درجے ترقی کرتے ہوئے کیریئر کی بہترین چوتھی پوزیشن حاصل کر لی۔ ان کے ریٹنگ پوائنٹس 798 ہیں۔
انگلینڈ کے ہیری بروک پانچویں نمبر پر موجود ہیں، جبکہ جوز بٹلر اور جنوبی افریقہ کے ڈیوالڈ بریوس مشترکہ طور پر چھٹی پوزیشن پر ہیں۔
دیگر پاکستانی بلے بازوں میں صائم ایوب چار درجے ترقی کے بعد 550 پوائنٹس کے ساتھ 42ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں، جبکہ سابق کپتان بابر اعظم چار درجے تنزلی کے بعد 528 پوائنٹس کے ساتھ 48ویں پوزیشن پر آ گئے ہیں۔
حسن نواز 526 پوائنٹس کے ساتھ سری لنکا کے کوشل پریرا کے ہمراہ مشترکہ طور پر 51ویں نمبر پر موجود ہیں، جبکہ سلمان علی آغا پانچ درجے تنزلی کے بعد 520 پوائنٹس کے ساتھ 56ویں پوزیشن پر چلے گئے ہیں۔
سری لنکا کے کوشل مینڈس تین درجے ترقی کے بعد 624 پوائنٹس کے ساتھ 23ویں نمبر پر پہنچ گئے، جبکہ ویسٹ انڈیز کے بلے باز شیرفین ردرفورڈ نے 13 درجے ترقی کرتے ہوئے 620 پوائنٹس کے ساتھ اپنے کیریئر کی بہترین مشترکہ 24ویں پوزیشن حاصل کی۔
بھارت کے سنجو سیمسن بھی چار درجے ترقی کے بعد 605 پوائنٹس کے ساتھ 27ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ابرار احمد ٹی ٹوئنٹی بولنگ رینکنگ میں پاکستان کے سرفہرست بولر
پاکستان کے ابرار احمد نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل بولنگ رینکنگ میں اپنی چوتھی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ وہ 695 پوائنٹس کے ساتھ انگلینڈ کے عادل رشید کے ہمراہ مشترکہ طور پر چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔
افغانستان کے راشد خان 720 پوائنٹس کے ساتھ بولنگ رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں، جبکہ آسٹریلیا کے ایڈم زمپا 700 پوائنٹس کے ساتھ دوسری پوزیشن پر موجود ہیں۔
پاکستان کے فاسٹ بولر سلمان مرزا نے بھی نمایاں ترقی کی ہے۔ وہ نو درجے بہتری کے بعد 635 پوائنٹس کے ساتھ 14ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
سلمان مرزا اب انگلینڈ کے جوفرا آرچر اور جنوبی افریقہ کے کوربن بوش سے صرف دو ریٹنگ پوائنٹس پیچھے ہیں، جو 637 پوائنٹس کے ساتھ مشترکہ طور پر 11ویں پوزیشن پر موجود ہیں۔
پاکستان کے آل راؤنڈر محمد نواز نے بھی بولنگ رینکنگ میں چھ درجے ترقی کرتے ہوئے 626 پوائنٹس کے ساتھ 18ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
شاہین شاہ آفریدی 572 پوائنٹس کے ساتھ 40ویں نمبر پر موجود ہیں، جبکہ سفیان مقیم تین درجے تنزلی کے بعد 532 پوائنٹس کے ساتھ 53ویں پوزیشن پر چلے گئے ہیں۔
صائم ایوب نے بولنگ رینکنگ میں بھی آٹھ درجے ترقی کی ہے اور وہ 529 پوائنٹس کے ساتھ 54ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ پیش رفت بلے بازی کے ساتھ بولنگ میں بھی ان کی خدمات کو ظاہر کرتی ہے۔
بھارت کے اکشر پٹیل 649 پوائنٹس کے ساتھ نویں نمبر پر موجود ہیں، جبکہ جسپریت بمراہ، جوفرا آرچر اور کوربن بوش 637 پوائنٹس کے ساتھ مشترکہ طور پر 11ویں پوزیشن پر ہیں۔
ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیز نے بھی نمایاں ترقی کرتے ہوئے 24 درجے بہتری کے بعد 618 پوائنٹس کے ساتھ 23ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
تازہ رینکنگ پاکستان کے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے؟
ٹی ٹوئنٹی کی تازہ رینکنگ پاکستان کے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں مختلف رجحانات کو ظاہر کرتی ہے۔ جہاں نوجوان کھلاڑیوں نے نمایاں ترقی کی ہے، وہیں بعض تجربہ کار بلے بازوں کی پوزیشن میں تنزلی دیکھنے میں آئی ہے۔
معاذ صداقت کی 187 درجے ترقی خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ انہوں نے مختصر سیریز میں دو بڑی اننگز کھیل کر اپنی عالمی درجہ بندی میں نمایاں بہتری حاصل کی۔
ان کی کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر مضبوط حریفوں کے خلاف بڑی اننگز کھیلنے سے کھلاڑیوں کی رینکنگ میں تیزی سے تبدیلی آ سکتی ہے۔
صاحبزادہ فرحان کا دنیا کے تین بہترین ٹی ٹوئنٹی بلے بازوں میں برقرار رہنا بھی پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب قومی ٹیم بیٹنگ کے ابتدائی نمبروں پر مستقل مزاجی کی خواہاں ہے۔
بولنگ کے شعبے میں ابرار احمد کی چوتھی پوزیشن اور سلمان مرزا کی نو درجے ترقی عالمی سطح پر پاکستانی بولرز کی نمایاں موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔
تاہم صرف عالمی رینکنگ کسی ٹیم کی مجموعی مضبوطی کا تعین نہیں کرتی۔ مختلف حریفوں، کھیل کے حالات اور میچ کی صورتِ حال میں مستقل کارکردگی کسی بھی کھلاڑی کی صلاحیتوں اور قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے توازن کا جائزہ لینے کے لیے اہم ہوتی ہے۔
مختصر اور نیوز روم انداز اپنائیںتجزیاتی اختتامی حصہ ختم کریںغیر ضروری تفصیلات کم کریں.





