پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کے قدرتی وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے اور مقامی آبادی کی شراکت کے بغیر کسی بیرونی فریق کو صوبے کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج کے دوران صوبے کے عوام کے مفادات کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہوگا۔
انہوں نے کہا، ’’کوئی یہ نہ سمجھے کہ غیر ملکی آئیں گے اور اس صوبے کے وسائل لوٹ کر لے جائیں گے۔ جب تک میں یہاں ہوں، صوبے کے وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہوگا۔‘‘
گورنر نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں بیرونی سرمایہ کاری پر پابندی کی بات نہیں کی جا رہی، تاہم غیر ملکی اور ملک کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کو صوبے کے عوام کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات کے نفاذ کے بعد صوبے کے معدنی وسائل کے انتظام اور ان پر اختیار سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
وسائل کی ملکیت سیاسی تنازع بن گئی
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں سے منسلک ہے۔
رواں ہفتے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے معدنی وسائل سے متعلق وفاقی حکومت کے عزائم پر سوالات اٹھائے اور صوبے میں ہنگامی انتظامات نافذ کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی ایسے دعوے گردش کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل امریکا کو منتقل یا فروخت کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم دستیاب رپورٹس میں ایسے کسی معاہدے کی تصدیق کے لیے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
فیصل کریم کنڈی نے اپنے خطاب میں ان الزامات کا براہِ راست جواب نہیں دیا اور نہ ہی معدنی وسائل سے متعلق کسی مجوزہ معاہدے کی نشاندہی کی۔
تاہم انہوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذمہ داری صوبے کے عوام کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
گورنر نے خیبر پختونخوا میں موجود مختلف قدرتی وسائل کا بھی حوالہ دیا، تاہم ان کے استخراج یا تقسیم سے متعلق کسی نئی پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔
آئینی اور معاشی پس منظر
یہ تنازع قدرتی وسائل پر اختیار، محصولات کی تقسیم اور سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں پر وفاق اور صوبوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری اختلافات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
پاکستان کا آئین قدرتی وسائل سے متعلق وفاقی اور صوبائی ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 172 کی شق 3 کے تحت کسی صوبے میں یا اس سے ملحقہ علاقائی سمندری حدود میں موجود معدنی تیل اور قدرتی گیس کی ملکیت وفاقی حکومت اور متعلقہ صوبے کو مشترکہ طور پر مساوی بنیادوں پر حاصل ہے۔
دیگر معدنی وسائل سے متعلق آئینی اختیارات کا تعین متعلقہ قانونی اور انتظامی ضوابط کے تحت ہوتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں سنگِ مرمر، چونا پتھر، قیمتی پتھروں اور دیگر معدنیات کے ذخائر موجود ہیں، جس کے باعث کان کنی اور اس شعبے میں سرمایہ کاری معاشی اہمیت رکھتی ہے۔
تاہم معدنی وسائل کی ترقی اور استعمال کے حوالے سے لائسنسوں کے اجرا، آمدن کی تقسیم، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی آبادی کو حاصل ہونے والے فوائد جیسے معاملات اہم ہیں۔
گورنر کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سرمایہ کاری کے منصوبوں میں مقامی آبادی کی شراکت کے حامی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انتظامیہ موجودہ معدنی پالیسیوں یا معاہدوں میں کوئی تبدیلی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یا نہیں۔
گورنر کا صوبائی مفادات کے تحفظ کا عزم
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ان کی ترجیحات میں سب سے پہلے خیبر پختونخوا کے عوام کا تحفظ، اس کے بعد صوبے اور پھر پاکستان کا تحفظ شامل ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی خودمختاری اور انتظامی اختیارات کی تقسیم سے متعلق سیاسی بحث میں اضافہ ہوا ہے۔
اگرچہ ہنگامی انتظامات کے تحت گورنر کو انتظامی اختیارات حاصل ہیں، تاہم معدنی وسائل کی ملکیت اور سرمایہ کاری کے حقوق سے متعلق معاملات کا تعین آئین اور متعلقہ قوانین کے مطابق ہی کیا جانا ضروری ہے۔
گورنر نے ممکنہ مشترکہ منصوبوں، مجوزہ سرمایہ کاروں یا معدنیات سے متعلق مخصوص منصوبوں کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ معاملہ خیبر پختونخوا کے انتظامی اور سیاسی مستقبل سے متعلق جاری بحث کا حصہ بنا رہنے کا امکان ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حزبِ اختلاف کے رہنما ہنگامی اقدامات کے نفاذ کی وجوہات اور صوبائی وسائل پر ان کے ممکنہ اثرات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔





